برطانیہ نے روس کے خلاف اپنی پابندیاں مزید سخت کرتے ہوئے بھارت کی بڑی تیل کمپنی نیارا انرجی لمیٹڈ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ برطانوی حکومت نے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں، چین کے چار تیل ٹرمینلز اور بھارت کی اس کمپنی سمیت کل 90 نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
برطانیہ کا موقف
برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات یوکرین جنگ میں ولادیمیر پوتن کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ چانسلر ریچل ریوز نے کہا کہ روس کی معیشت کو کمزور کرنے اور اس کی عسکری طاقت کو محدود کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی منڈیوں میں اب روسی تیل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
نیارا انرجی پر پابندی کی وجہ
نیارا انرجی پر پابندی اس لیے عائد کی گئی کیونکہ اس نے 2024 میں 100 ملین بیرل روسی خام تیل درآمد کیا تھا، جس کی قیمت تقریباً 5 ارب ڈالر (تقریباً 3.75 ارب پاؤنڈ) سے زیادہ تھی۔ یہ درآمد روس کی تیل کی آمدنی میں بڑا حصہ ڈالتی ہے، جو جنگ کو مالی تعاون فراہم کرتی ہے۔
44 تیل ٹینکروں پر بھی پابندی
برطانیہ نے روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ میں شامل 44 تیل ٹینکروں پر بھی پابندی عائد کی ہے جو دنیا بھر میں تیل پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ روس کی دو اہم کمپنیاں روسنیفٹ اور لُوکوئل بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ روسنیفٹ اکیلے روس کی نصف تیل پروڈکشن کے لیے ذمہ دار ہے اور عالمی پروڈکشن میں اس کا حصہ 6 فیصد ہے۔
بھارت اور چین کی کمپنیوں پر بھی پابندی
برطانوی وزیراعظم کے بھارت دورے کے چند ہی دن بعد یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ اب ان تیسرے ممالک کی کمپنیوں پر بھی سختی کر رہا ہے جو روس کو عالمی منڈیوں میں قائم رکھنے میں مدد دے رہی ہیں، جن میں بھارت اور چین کی کمپنیاں شامل ہیں۔
برطانوی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ روس کی جنگی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گی اور جو بھی کمپنیاں روس کے تیل کے کاروبار کو فروغ دیں گی، انہیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
