Urdu Conclave 2026

India Russia oil

امریکہ کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر دی گئی چھوٹ کی مدت ختم ہونے کے باوجود بھارت نے روسی خام تیل کی خرید جاری رکھی ہے۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک کی تیل خرید پالیسی کسی امریکی رعایت پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل طور پر تجارتی ضروریات اور بازار کی صورتحال کے مطابق طے کی جاتی ہے۔

امریکہ نے ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے، جس پر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے اس فیصلے کو بھارت کی خودمختاری اور آزادی پر ”کرارا طمانچہ“ قرار دیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کس حیثیت سے بھارت کو یہ اجازت دے رہا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے بڑھتے خدشات کے درمیان امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور بھارت اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کو تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں جاری بحران کے دوران سپلائی میں ممکنہ خلل کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز فیڈریشن (FIEO) نے 23ویں بھارت-روس سالانہ سربراہی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی، تکنیکی اور رابطہ کاری شراکت داری کو مضبوط بنانے میں ایک بڑا قدم قرار دیا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن بھارت کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ امبانی کے دوست بھی بھارت آ رہے ہیں۔ ان کا ریلائنس انڈسٹریز سے گہرا تعلق ہے۔ امریکہ کی جانب سے روس نیفٹ پر عائد پابندیوں کے بعد بھارت-روس کے تیل کے کاروبار پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن 4-5 دسمبر کو وزیر اعظم مودی کی دعوت پر بھارت آئیں گے۔ اس دورے میں تیل کی خریداری، دفاعی تعاون اور تجارت جیسے اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو اور اسٹریٹجک معاہدوں کی امید ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل کے دعووں کو دہرائے جانے کے بعد کانگریس نے ایک مرتبہ پھر مودی حکومت  کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

برطانیہ نے روس سے تیل درآمد کرنے والی بھارتی کمپنی نیارا انرجی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ قدم یوکرین جنگ میں روس کی فنڈنگ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

کمار نے واشنگٹن کے اس فیصلے کو "غیر منصفانہ، غیر معقول اور ناجائز" قرار دیا اور کہا کہ ہندوستانی حکومت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان تجارت باہمی مفادات اور منڈی کے عوامل پر مبنی ہے۔