Bharat Express DD Free Dish

Crude Oil

مغربی ایشیا میں جنگ بندی (سیزفائر) کی امیدوں کے درمیان عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یورپ، کوریا، جاپان اور چین کو اس کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں اس معاملے میں آگے آنا ہوگا۔

خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور دیگر شہری ڈھانچے پر ایران کے حالیہ حملے قابلِ مذمت ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ایران کے فوجی ہیڈکوارٹر “خاتم الانبیاء” کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی تیاری ہو رہی ہے، جن میں سعودی عرب کے تیل اور گیس پلانٹس بھی شامل ہیں۔

ڈرون اردن کے ایک ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں نشانہ بنا۔ مزید دو ڈرون حادثات میں بھی تباہ ہوئے۔حادثات بھی نقصان کی بڑی وجہ بنے۔ کویت میں تین F-15 ایگل لڑاکا طیارے مبینہ طور پر اپنی ہی فوج کی فائرنگ (فرینڈلی فائر) کا شکار ہو گئے،

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہرمز آبنائے سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور عالمی منڈیوں میں بے چینی کے سبب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں، جس نے دنیا بھر کی معیشتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

بھارت کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کے پاس فی الحال خام تیل، پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت نے بتایا کہ بھارتی تیل کمپنیاں خلیج کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی درآمدات بڑھا کر سپلائی کی کمی کو پورا کر رہی ہیں۔

نومبر کے بعد پہلی بار روسی تیل کی ڈلیوری لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق روسی یورالز کروڈ مارچ اور اپریل کی ابتدا میں برینٹ سے 4-5 ڈالر زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، حالانکہ فروری میں یہی تیل برینٹ سے 13 ڈالر سستا تھا۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت نے خلیجی ممالک کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اب بڑی مقدار میں تیل آبنائے ہرمز کے راستے نہیں آتا۔