نئی دہلی :کئی ماہ تک جاری رہنے والی کشیدگی اور تنازع کے بعد بالآخر ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ایران-امریکہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کے بعد ایران کا پہلا باضابطہ ردِعمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے (IRNA) کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے صدور کے دستخطوں کے ساتھ اسلام آباد معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ دیکھنے کا وقت ہے کہ اس معاہدے پر عملی طور پر کس طرح عملدرآمد کیا جاتا ہے اور اس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے موجودہ تنازع کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور نہ ہی حاصل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ایران کو مستقبل میں کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری یا حصول سے روکے گا۔
قابل ذکر بات یہ ہےکہ ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو امریکہ دوبارہ سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کا احترام نہ کیا گیا تو فوجی کارروائی سمیت دیگر آپشنز بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کی جانب سے عملی اقدامات اور باہمی اعتماد کی بحالی پر ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
