نئی دہلی :امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اہم سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک ایسا متنازعہ بل منظور کر لیا ہے جس کا مقصد صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنا اور ایران کے خلاف کسی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی پر قدغن لگانا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر ایک اور بڑی جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظوری
رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ حیران کن طور پر اس بار کچھ ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی ہی جماعت کے مؤقف سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی۔کم از کم چار ریپبلکن ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جسے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور خاص طور پر ایران کے بارے میں ان کے سخت موقف کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر کے اختیارات پر سوال
یہ قرارداد امریکی صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لازمی ہو۔اگرچہ ایوان میں یہ بل منظور ہو چکا ہے، تاہم اس کا حتمی مستقبل ابھی غیر یقینی ہے کیونکہ اسے سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہوگی۔ اس کے بعد ہی یہ قانون کی شکل اختیار کر سکے گا۔
مائیک جانسن کی مخالفت کے باوجود پیش رفت
ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور اسے روکنے کی کوشش بھی کی، لیکن بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور دونوں جماعتوں کے کچھ اراکین کی حمایت کے باعث یہ بل آگے بڑھنے میں کامیاب رہا۔
وائٹ ہاؤس کی ممکنہ مزاحمت
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اس بل کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اپنے ویٹو کے اختیار کا استعمال کریں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایوان میں اس کی منظوری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کانگریس کے اندر ان کی جنگی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
دو جماعتی اتفاق کی غیر معمولی مثال
بل کے اسپانسر نمائندہ گریگوری میکس نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ یہ پیش رفت ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “زیادہ سے زیادہ ریپبلکن اراکین اپنے ووٹرز کی آواز سن رہے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل اور غیر یقینی جنگ نہیں چاہتے۔”
آگے کا مرحلہ
اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں اس کی منظوری کے لیے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر سینیٹ اور ایوان دونوں اسے منظور کر لیتے ہیں تو یہ امریکی صدر کے جنگی اختیارات پر ایک بڑی آئینی اور سیاسی پابندی کے طور پر سامنے آئے گا۔اس پیش رفت کو امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف صدر ٹرمپ بلکہ امریکہ کی مستقبل کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


