Iran US War: اسرائیل کے نیوکلیئر ریسرچ سینٹر پرایران کا بیلسٹک میزائل حملہ، 100 سے زائد زخمی
جنوبی اسرائیل کے اس صحرائی شہر پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایرانی سرکاری میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی Natanz Nuclear Facility پر امریکی-اسرائیلی کارروائی کی خبر دی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
Iran US War: ٹرمپ نے کہا- 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ،ایرانی پاور پلانٹس کو بنایا جائے گا نشانہ
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یورپ، کوریا، جاپان اور چین کو اس کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں اس معاملے میں آگے آنا ہوگا۔
Iran – US War: ایران-امریکہ جنگ میں شدت، 16 امریکی طیاروں کی تباہی کا دعویٰ،ایران نےکہا- F-35 بھی نشانے پر
ڈرون اردن کے ایک ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں نشانہ بنا۔ مزید دو ڈرون حادثات میں بھی تباہ ہوئے۔حادثات بھی نقصان کی بڑی وجہ بنے۔ کویت میں تین F-15 ایگل لڑاکا طیارے مبینہ طور پر اپنی ہی فوج کی فائرنگ (فرینڈلی فائر) کا شکار ہو گئے،
US Counterterror Chief Joe Kent Resigns Over Trump Iran War: ’ایران پر حملوں کی حمایت ناممکن‘، امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ جوزف کینٹ نے دیا استعفیٰ، کہا – ”ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا“
امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جوزف کینٹ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ یہ حملہ غیر ضروری تھا اور وہ اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔
Us Sinks Iranian Warship 87 Sailors Killed: امریکہ نے ایرانی جنگی جہاز پر کیا حملہ، 87 اہلکار ہلاک، بھارت سے لوٹ رہا تھا جہاز
بحرِ ہند میں سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب ایک سنگین بحری واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکہ کی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر ڈبو دیا۔ اس حملے میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 32 کو زندہ بچا لیا گیا۔ واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
Iran-US conflict: خلیجی خطے سے اب بحرہند تک پھیلی ایران۔امریکہ کشیدگی، سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر حملہ
سمندر سے چند لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جہاز کے عملے کے ارکان کی ہو سکتی ہیں۔ ہلاک شدگان کی حتمی تعداد تاحال جاری نہیں کی گئی اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ یہ واقعہ سمندری حدود میں پیش آنے والا ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔





