مڈل ایسٹ کی جنگ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جس نے دنیا بھر کے فوجی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وسطی ایران کے صوبہ مرڪزی میں امریکہ کے جدید ترین تصور کیے جانے والے ایف-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کو مار گرایا ہے۔ خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے مطابق، ان کے فضائی دفاعی نظام نے اس طیارے کو ٹریک کیا اور درست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ طیارے کے ملبے پر برطانیہ کے لیکین ہیتھ ایئر بیس (Lakenheath Air Base) کے نشانات ملے ہیں، جو امریکی فضائیہ کا ایک اہم اسٹریٹجک مرکز سمجھا جاتا ہے۔
15 دنوں میں دوسری بار ایران کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ 15 دنوں کے اندر یہ دوسرا امریکی ایف-35 طیارہ ہے جسے انہوں نے تباہ کیا ہے۔ اس سے پہلے 19 مارچ کو بھی ایک ایف-35 اے کو نشانہ بنانے کی خبر سامنے آئی تھی، جس نے شدید نقصان کے بعد ایمرجنسی لینڈنگ کی تھی۔ تاہم اس بار صوبہ مرڪزی میں گرنے والا طیارہ مکمل طور پر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ملبے کی جانچ سے واضح ہوا ہے کہ یہ طیارہ برطانیہ سے آپریٹ ہو رہا تھا، جس کے بعد اس جنگ میں یورپی فوجی اڈوں کے استعمال پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ایران کا نیا ایئر ڈیفنس سسٹم بنا خطرہ؟
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران نے ممکنہ طور پر کوئی نیا خفیہ ریڈار یا میزائل سسٹم (جیسے باور-373 کا جدید ورژن) فعال کر دیا ہے، جو ایف-35 جیسی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو بھی پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔19 مارچ کے واقعے کے دوران جاری ہونے والی ویڈیو کو اگرچہ کچھ لوگوں نے سمیولیشن قرار دیا تھا، لیکن زمین پر ملنے والے تازہ ملبے اور لیکین ہیتھ ایئر بیس کے نشانات نے پینٹاگون کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایران اب کھلے عام چیلنج دے رہا ہے کہ اس کی حدود میں امریکہ کا کوئی بھی طیارہ محفوظ نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


