نئی دہلی :امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو تین ہفتے گزر چکے ہیں، اسی دوران ہفتہ 21 مارچ کو اسرائیل کے اہم جوہری تحقیقاتی شہر دیمونا میں بیلسٹک میزائل حملہ کیا گیا، جس میں 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ معلومات اسرائیل کی قومی ہنگامی طبی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) نے فراہم کیں۔رپورٹ کے مطابق میزائل ایک رہائشی علاقے میں گرا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق ان کی ٹیم نے درجنوں زخمیوں کو موقع پر طبی امداد فراہم کی، جن میں کئی افراد شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہوئے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری مرکز Natanz Nuclear Facility پر ہونے والے حملے کا بدلہ جواب ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ادھر انرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے دیمونا حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کو کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ادارے کے مطابق علاقے میں تابکاری کی سطح میں کسی غیر معمولی اضافے کی رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ دیمونا میں واقع جوہری تحقیقاتی مرکز 1958 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے اسرائیل کے حساس ترین سائنسی و دفاعی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، لیکن اسرائیلی قیادت نہ تو اس کی تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی تردید۔
جنوبی اسرائیل کے اس صحرائی شہر پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایرانی سرکاری میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی Natanz Nuclear Facility پر امریکی-اسرائیلی کارروائی کی خبر دی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران کی جوابی کارروائی
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی، میزان کے مطابق، نطنز جوہری تنصیب سے کسی تابکاری کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ہے، جسے ہفتے کے روز ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ نتنز ایران کا بنیادی یورینیم افزودگی کا مرکز ہے۔ سیٹلائٹ کی تصاویر سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مقام پر کئی عمارتوں کو ایک حملے کے دوران نقصان پہنچا ہے جو تنازع کے پہلے ہفتے میں ہوا تھا۔ جوہری تنصیب تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس سے قبل جون 2025 میں بھی اسرائیل اور امریکا نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران اس سہولت کو نشانہ بنایا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



