نئی دہلی : امریکی قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) پر کامیاب سائبر یا الیکٹرانک حملہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں امریکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ایک ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں چین اور روس سے بڑھتے ہوئے خطرات کے ساتھ ساتھ جی پی ایس کے متبادل اور بیک اپ نظاموں پر بھی غور کیا گیا۔ہاؤس انرجی اینڈ کامرس سب کمیٹی کی سماعت کے دوران دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جی پی ایس آج روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی پی ایس سگنلز کو جام (Jamming) کرنے اور فرضی سگنلز کے ذریعے گمراہ کرنے یعنی اسپوفنگ (Spoofing) کے بڑھتے ہوئے واقعات قومی سلامتی، مواصلاتی نظام، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔سب کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ ہڈسن نے کہا کہ جی پی ایس اب صرف راستہ دکھانے والی ایپلی کیشنز تک محدود نہیں رہا بلکہ مواصلات، توانائی، مالی لین دین، ہنگامی خدمات اور دیگر اہم شعبوں میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “اگر کوئی مخالف ملک جی پی ایس نظام کو جام یا اسپوف کر دے اور بڑے پیمانے پر اس کی کارکردگی متاثر ہو جائے تو اس کے امریکی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔”ہڈسن کے مطابق روس اور چین ایسی جدید صلاحیتیں تیار کر رہے ہیں جو سیٹلائٹ پر مبنی خدمات کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ بھی دیا جس میں مبینہ روسی مداخلت کے باعث ایک برطانوی فوجی طیارے کا جی پی ایس سگنل منقطع ہو گیا تھا۔سب کمیٹی کی سینئر رکن ڈورس ماتسوئی نے کہا کہ بیشتر امریکی شہری اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ان کی روزمرہ زندگی کس حد تک جی پی ایس پر منحصر ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا، “جی پی ایس انٹرنیٹ نیٹ ورکس کو فعال رکھنے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ہموار بنانے اور بینک اکاؤنٹس کو دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح 911 ایمرجنسی سروسز بھی کسی ہنگامی کال کی صورت میں متاثرہ شخص تک پہنچنے کے لیے جی پی ایس پر انحصار کرتی ہیں۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جی پی ایس میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو مواصلاتی نیٹ ورک، فضائی سفر، توانائی کا شعبہ، زراعت اور سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہاؤس کمیٹی کے چیئرمین بریٹ گوتھری نے کہا کہ ایسے خطرات دنیا کے مختلف تنازعہ زدہ علاقوں میں پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا، “ہمارے مخالف ممالک جنگی علاقوں میں جی پی ایس سگنلز کو جام اور اسپوف کر رہے ہیں، جس سے فوجی کارروائیوں میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اگر امریکہ میں بھی ایسا ہوا تو اس کے معاشی نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔”سماعت کے دوران ماہرین نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگرچہ جی پی ایس اب بھی ایک قابلِ اعتماد نظام ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ امریکہ کو پوزیشننگ، نیوی گیشن اور ٹائمنگ خدمات کے لیے زیادہ مضبوط اور کثیر سطحی نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے۔جی پی ایس انوویشن الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیزا ڈائر نے جی پی ایس کو “امریکہ کی عظیم ترین تکنیکی ایجادات میں سے ایک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1995 میں اس کے آغاز کے بعد سے پورے نظام کی سطح پر کبھی کوئی بڑی خرابی پیش نہیں آئی۔ ان کے مطابق موجودہ جی پی ایس نیٹ ورک 32 سیٹلائٹس پر مشتمل ہے اور اس کی دستیابی 99.99 فیصد ہے۔
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ مقامی سطح پر جامنگ اور اسپوفنگ کے واقعات فضائی اور بحری نقل و حمل کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے نظام کو جدید بنانے اور غیر قانونی مداخلت کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔متعدد ماہرین نے ایسے متبادل اور معاون نظاموں کی حمایت کی جو جی پی ایس سگنلز کی بندش کی صورت میں بھی کام جاری رکھ سکیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف براڈکاسٹرز کے سیم میتھنی نے براڈکاسٹ پوزیشننگ سسٹم کے بارے میں بتایا جو موجودہ نشریاتی ٹاورز اور لائسنس یافتہ اسپیکٹرم کے ذریعے کام کرتا ہے۔
دوسری جانب نیکسٹ نیو کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مریم سورونڈ نے کہا کہ امریکہ اب بھی کمزور پوزیشن میں ہے کیونکہ اس کے پاس جی پی ایس کا کوئی زمینی بیک اپ نیٹ ورک موجود نہیں، جبکہ چین اور روس ایسے نظام پہلے ہی تیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق جی پی ایس ایک “قومی اثاثہ” ہونے کے ساتھ ساتھ “سنگل پوائنٹ آف فیلئر” بھی ہے۔سماعت کے دوران 900 میگا ہرٹز اسپیکٹرم بینڈ سے متعلق تجاویز پر بھی اختلافات سامنے آئے۔ صارفین کی تنظیموں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور صنعتی نمائندوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی تبدیلی سے بجلی، عوامی تحفظ، ٹرانسپورٹ، زراعت اور ریٹیل شعبوں میں استعمال ہونے والی موجودہ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی نئے بیک اپ نظام کو نافذ کرنے سے پہلے اس کا جامع تجربہ کیا جانا چاہیے تاکہ یوزر پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر موجودہ خدمات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ جی پی ایس کو ابتدا میں امریکی فوج نے تیار کیا تھا، تاہم بعد میں اسے عام شہریوں کے لیے بھی کھول دیا گیا۔ آج یہ نظام دنیا بھر میں اربوں افراد استعمال کرتے ہیں اور ہوابازی، بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، لاجسٹکس اور جدید زراعت سمیت متعدد شعبوں کی بنیاد بن چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

