مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی (سیزفائر) اب تقریباً غیر مؤثر دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔ اسی دوران امریکی فوج نے ایران کے 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد پورے خطے میں کشیدگی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار اسٹیشنز، ڈرون اور میزائل ذخائر، فوجی اسپیڈ بوٹس اور آبنائے ہرمز کے اطراف موجود متعدد اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں امریکہ 170 سے زائد فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے۔
ٹرمپ بولے-سیز فائر اب ختم
نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی اب باقی رہی ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔ دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائی کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق دی گئی رعایتیں واپس لے کر اور مسلسل فوجی کارروائیاں کر کے جنگ بندی کی روح کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ دھمکیوں اور حملوں کے ماحول میں امریکہ کے ساتھ کسی نئی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تیل بازار میں پھر بڑھی ہلچل
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل منڈی میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ تجارتی سیشن میں تقریباً پانچ فیصد کا نمایاں اچھال دیکھا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق سب سے بڑی تشویش آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے، جہاں سے دنیا کی سمندری راستے سے ہونے والی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔ اگر اس اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ایندھن کی قیمتوں سے لے کر عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔احتیاطی اقدامات کے تحت امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی تعیناتی بھی بڑھا دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن آئندہ دنوں میں اسرائیل کو بھی ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی منظوری دے سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے IRNA کے مطابق، آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال بحال رکھنا ممکن نہیں ہوگا، جس کے معاشی اثرات کئی ممالک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جبکہ فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے شمالی ایران میں چین اور روس سے منسلک ایک اہم ریلوے پل کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی انقلابی گارڈز نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں موجود 85 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور علی السالم ایئر بیس جیسے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات کے باعث سمندری تجارت بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کویت سے تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ ہونے والا بھارتی پرچم بردار ٹینکر ’لیلا وادینار‘ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عمان کے ساحل کے قریب سے واپس لوٹ گیا۔ اس پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


