نئی دہلی : ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایران کی سرکاری میڈیا اور سفارتی حلقوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو طیارہ تبدیل کرنے کے معاملے پر میمز کے ذریعے شدید طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اطلاعات میں بتایا گیا کہ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکیہ کے دورے سے واپسی کے دوران ممکنہ خطرے کے پیش نظر خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کرنا پڑا تھا۔ ایران نے اس واقعے کو امریکی حکومت کے لیے شرمندگی قرار دیتے ہوئے اسے اپنی فوجی صلاحیتوں سے واشنگٹن کے خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک پریزنٹر نے طیارہ تبدیل کرنے کے واقعے کو ٹرمپ کے لیے ایک نیا اسکینڈل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ امریکی صدر کے لیے باعث شرمندگی بن گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ سکیورٹی آپریشن انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ کی امریکہ واپسی کے دوران کیا گیا تھا۔رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایرانی عناصر ٹرمپ کے صدارتی طیارے کو کندھے سے داغے جانے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر ٹرمپ کو کیمروں کے سامنے پرانے ایئر فورس ون میں سوار کرایا گیا، لیکن بعد میں انہیں انتہائی خفیہ طریقے سے ایک دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے بڑے صدارتی طیارے سے نکال کر چھوٹے سرکاری جیٹ C-32A تک پہنچایا گیا۔ کیٹرنگ ٹرک عام طور پر طیاروں میں کھانے پینے کی اشیا اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ٹرمپ کے چھوٹے طیارے سے روانہ ہونے کے بعد بڑا صدارتی طیارہ بھی انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں، عملے اور صحافیوں کے ساتھ الگ سے روانہ ہوا۔نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس حکام کو یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ ایرانی آپریٹو کو انقرہ میں ٹرمپ کی موجودگی اور ان کے قیام کی جگہ کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔ یہاں تک کہ مبینہ طور پر انہیں اس ہوٹل کی منزل کے بارے میں بھی علم تھا جہاں امریکی صدر قیام پذیر تھے۔ اسی خدشے نے امریکی سکیورٹی حکام کو اضافی احتیاط برتنے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب ایران نے طیارہ تبدیل کیے جانے کے معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی واضح تبصرہ نہیں کیا، تاہم یہ واقعہ جلد ہی ایرانی سوشل میڈیا اور سرکاری پروپیگنڈا مہم کا حصہ بن گیا۔ جنوبی افریقہ میں ایرانی سفارت خانے نے ایک طنزیہ میم پوسٹ کیا، جس میں ٹرمپ کو کھانے سے بھرے ایک کیٹرنگ باکس کے اندر دکھایا گیا۔ میم کے کیپشن میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جلد ہی انہیں کچرے کے ڈبے میں چھپایا جائے گا۔ایران کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ پر مزید طنز کیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جو شخص مبینہ طور پر بنکر میں چھپنے کی باتوں کا سامنا کر رہا تھا، وہ بالآخر اپنے دفتر میں مارا گیا، جبکہ بڑے جنگی بحری جہازوں اور جدید B-2 بمبار طیاروں پر فخر کرنے والے امریکی صدر کو آخرکار ایک فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار ہونا پڑا۔رپورٹس کے مطابق 8 جولائی کو ٹرمپ اور ان کے کچھ ساتھیوں کو صدارتی طیارے سے ایک چھوٹے سرکاری جیٹ میں منتقل کیا گیا تھا اور اس کارروائی کے دوران انہیں خفیہ رکھنے کے لیے کیٹرنگ ٹرک استعمال کیا گیا۔ ایران نے اسی واقعے کو بنیاد بنا کر امریکی صدر کا مذاق اڑایا اور اسے اپنی عسکری طاقت کے اثرات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




