نئی دہلی : ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ یو اے ای نے ایران پر اپنے علاقے کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا ہے، جب کہ ایران نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ تنازع کے درمیان یو اے ای نے منگل کو ایران کے ساتھ تمام طرح کی تجارتی، کاروباری اور مالی لین دین کو اگلے حکم تک روکنے کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان نئے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔یو اے ای کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران کے ساتھ تمام تجارت، کاروباری معاملات اور مالی لین دین عارضی طور پر معطل کیے جارہے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب یو اے ای میں ممکنہ میزائل حملے کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو الرٹ جاری کیا گیا تھا۔
یو اے ای میں بج اٹھے سائرن
یو اے ای کی جانب سے تجارتی پابندی کے اعلان سے تقریباً دو گھنٹے قبل شہریوں کے موبائل فون پر ایک ہنگامی الرٹ موصول ہوا۔ اس میں ممکنہ میزائل حملے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے لوگوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے اور قریبی محفوظ عمارت میں پناہ لینے کی اپیل کی گئی۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد یہ الرٹ واپس لے لیا گیا۔یو اے ای کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے ملک کی سمت داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا۔ وزارت کے مطابق دونوں میزائل سمندر میں جاگرے۔ ایک میزائل یو اے ای کی سمندری حدود سے باہر جبکہ دوسرا سمندری حدود کے اندر گرا۔یہ واقعہ گزشتہ کچھ عرصے میں یو اے ای کی جانب سے جاری کی گئی میزائل وارننگز کے سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ اس سے قبل جون میں ایک غلط الرٹ جاری ہوا تھا، جبکہ جولائی میں بھی میزائل حملے سے متعلق وارننگ دی گئی تھی، تاہم وہ حملہ یو اے ای کی سرحد کے اندر نہیں پہنچا تھا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یو اے ای کی سرکاری تیل کمپنی ADNOC سے وابستہ ٹینکروں کو بھی بار بار نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
ایران نے الزامات کو مسترد کردیا
دوسری جانب ایران نے یو اے ای کے میزائل حملے کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے یو اے ای کی جانب کوئی میزائل نہیں داغا۔ انہوں نے یو اے ای کے الزامات کو ’مکمل طور پر مسترد‘ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الزامات اچھے ہمسایہ ممالک کے اصولوں کے منافی ہیں ۔بقائی کے مطابق ایسے بیانات خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد بڑھانے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور عدم تحفظ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ایران نے یو اے ای کے اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے ماحول میں ایسے اقدامات حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
معاہدہ ہوا، پھر ختم ہوگیا
28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے حملوں کا سب سے زیادہ اثر یو اے ای پر پڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ ایران نے یو اے ای کی سمت تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرون بھیجے تھے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔اس کے بعد جون میں ایران اور یو اے ای کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) نافذ ہوئی تھی۔ اس معاہدے کے دوران یو اے ای نے ایران کی جانب سے کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں دی، جب کہ خلیج کے دیگر ممالک پر حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ تاہم بعد میں یہ معاہدہ بھی ختم ہوگیا۔ اب تازہ میزائل تنازع اور یو اے ای کی جانب سے ایران کے ساتھ تمام کاروباری و مالی لین دین روکنے کے فیصلے نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



