Urdu Conclave 2026

Iran US War :جنگ ختم کرنے کا صحیح وقت آ گیا، ایران کا بڑا اعلان، چین کی انٹری سے جنگ کے خاتمے کی امید

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

نئی دہلی : امریکا کے ساتھ کئی ماہ سے جاری جنگ کے درمیان ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اب جنگ ختم کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے جمعہ کو ڈاکٹروں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے، اس لیے اب جنگ ختم کرنا بہتر ہوگا۔ تاہم اس وقت دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی مذاکرات رکے ہوئے ہیں اور کسی حتمی معاہدے پر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

پزشکیان نے ایران کی فتح کا دعویٰ کیا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم ایرانی صدر کے اختیارات بالآخر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ماتحت ہیں۔پزشکیان نے جون میں امریکا کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی یادداشت کا بھی دفاع کیا۔ ایران کی پارلیمنٹ میں موجود سخت گیر رہنماؤں نے ان کی حکومت پر امریکا کو رعایتیں دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ صدر نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جسے خودسپردگی قرار دیا جا سکے۔ ان کے مطابق معاہدے میں کی گئی تمام یقین دہانیاں دوسرے فریق سے متعلق ہیں۔

ایرانی فوج نے دی سخت جواب کی دھمکی

مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے کے چند روز بعد ایرانی فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک کسی بھی نئے خطرے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران کی بری، بحری اور فضائی افواج کے ساتھ فضائی دفاع اور سائبر صلاحیتیں بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن کی جانب سے کسی نئے خطرے کی صورت میں ایران کی فوج سخت اور تباہ کن جواب دے گی۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر بھی کشیدگی برقرار

دوسری جانب عمان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو فون پر بات چیت کی۔ عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق تازہ صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو اب بھی جزوی طور پر بند کر رکھا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی بحری ناکہ بندی جاری ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے تیل کے ٹینکروں کے خفیہ قافلوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 50 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل تیل کی برآمد ممکن ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے مذاکرات پر اٹھائے سوال

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش پر شکوک کا اظہار کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے آپشن محدود ہوگئے ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ امریکا صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس آبنائے ہرمز سے متعلق پورے علاقے پر مکمل کنٹرول ہے، جس میں آس پاس کے زمینی علاقے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کی رائے میں وہ کسی درست اور قابل قبول معاہدے کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران کو کسی بھی طرح کی مدد یا سہارا دے گا، اسے معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی بات کے باوجود خطے میں سفارتی کوششوں، فوجی تیاریوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر پوری دنیا کی نظر ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read