USA Vs Iran War Complete Timeline: فروری میں تباہی، اپریل میں جنگ بندی، پھر جون میں دوبارہ جنگ، دیکھیے امریکہ اور ایران کشیدگی کی مکمل ٹائم لائن
سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی مکمل ٹائم لائن سامنے آ گئی ہے۔ اس میں فروری میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دعووں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے لے کر جون میں کارگو بحری جہاز پر حملے اور 30 جون، منگل کو ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس تک کے تمام اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اس پورے تنازع کی اندرونی کہانی اور مختلف مراحل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
US-Iran Deal: امریکا کے ساتھ تاریخی امن معاہدے کے بعد ایران کا پہلا ردِعمل، کہا: “اب وقت آگیا ہے…”
ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔
Iran – US Conflict: ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا امریکہ پر سخت حملہ، بولے- جو خود محفوظ نہیں، وہ دوسروں کی حفاظت کیسے کرے گا؟
ایرانی سپریم لیڈر کے اس بیان کو سیاسی مبصرین امریکہ کے لیے ایک واضح سفارتی اور سیاسی پیغام قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ پہلے کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
US Iran conflict: امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں، ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے معاہدے کے دعووں کو کیا مسترد
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی تجارتی جہازوں پر ہونے والے امریکی حملے، جن میں کم از کم تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے، امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی مثال ہیں۔
Iran US Tensions: امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائی، کویت اور بحرین میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ماجد موسوی نے کہا کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو ایران پورے خطے کو اس کے لیے "جہنم" بنا دے گا۔انہوں نے کہا، "کیا آپ مقدس آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں؟ ہم پورے ایران سے اس خطے کو آپ کے لیے جہنم بنا دیں گے۔"
Iran-Israel War: ایرانی میزائل حملوں کے بعد شمالی اسرائیل میں ہائی الرٹ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایران کی کارروائی کو "بہت بڑی غلطی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج ہر ممکنہ حملے کا جواب دینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی سربراہ ایال ضمیر مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ اقدامات سے متعلق منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں۔
Global Positioning System: جی پی ایس پر حملہ معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، امریکی قانون سازوں کا انتباہ
ہاؤس کمیٹی کے چیئرمین بریٹ گوتھری نے کہا کہ ایسے خطرات دنیا کے مختلف تنازعہ زدہ علاقوں میں پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا، "ہمارے مخالف ممالک جنگی علاقوں میں جی پی ایس سگنلز کو جام اور اسپوف کر رہے ہیں، جس سے فوجی کارروائیوں میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔
US President Donald Trump: ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا، امریکی ایوانِ میں ایران جنگ سے متعلق اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور
رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ حیران کن طور پر اس بار کچھ ریپبلکن ارکان نے بھی اپنی ہی جماعت کے مؤقف سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی۔کم از کم چار ریپبلکن ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،
Iran US Crisis: ایران جھکے گا نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ ڈیل پر حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجلاس کے اختتام کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ نے حتمی فیصلہ کیوں مؤخر کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث مذاکرات فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔
Minab School: آپ کے ہاتھ معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہیں، ماں کو اس کے بیٹے کا صرف ایک جوتا ملا، جسم کا کوئی حصہ تک نہیں ملا، ایران نے کیرولین لیوٹ کو ماں بننے پر دی مبارکباد
آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے لکھا، “آپ کو مبارکباد۔ بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں۔ میناب اسکول میں جن 168 بچوں کو آپ کے حکمرانوں نے مارا اور آپ نے اس کی حمایت کی، وہ بھی بچے ہی تھے۔





