Iran-US Tensions: امریکہ پر ذرہ برابر بھی بھروسا نہیں، ٹرمپ کی دھمکیوں پر محمد باقر قالیباف کا سخت ردعمل،اگر معاہدہ توڑا گیا تو ایران جنگ کے لئے تیار
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کی اور اگر امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔
Tensions Escalate Between Iran and US: ایران۔امریکہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ، بندر عباس میں دھماکے، بحرین اور کویت نے ایرانی حملے ناکام بنانے کا کیا دعویٰ
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ حالیہ یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر ساٹھ روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔
US-Iran Conflict: صرف 72 گھنٹوں میں پورا بدل گیا منظرنامہ: امریکہ۔ایران جنگ دوبارہ بھڑکنے سے تیل کی قیمتوں میں آگ، کتنی ہوا اصافہ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر یہ تیزی برقرار رہی تو بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ درآمدی بل اور تجارتی خسارے میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
USA Vs Iran War Complete Timeline: فروری میں تباہی، اپریل میں جنگ بندی، پھر جون میں دوبارہ جنگ، دیکھیے امریکہ اور ایران کشیدگی کی مکمل ٹائم لائن
سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی مکمل ٹائم لائن سامنے آ گئی ہے۔ اس میں فروری میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دعووں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے لے کر جون میں کارگو بحری جہاز پر حملے اور 30 جون، منگل کو ہونے والے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس تک کے تمام اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اس پورے تنازع کی اندرونی کہانی اور مختلف مراحل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
US-Iran Deal: امریکا کے ساتھ تاریخی امن معاہدے کے بعد ایران کا پہلا ردِعمل، کہا: “اب وقت آگیا ہے…”
ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔
Iran – US Conflict: ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا امریکہ پر سخت حملہ، بولے- جو خود محفوظ نہیں، وہ دوسروں کی حفاظت کیسے کرے گا؟
ایرانی سپریم لیڈر کے اس بیان کو سیاسی مبصرین امریکہ کے لیے ایک واضح سفارتی اور سیاسی پیغام قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ پہلے کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
US Iran conflict: امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں، ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے معاہدے کے دعووں کو کیا مسترد
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی تجارتی جہازوں پر ہونے والے امریکی حملے، جن میں کم از کم تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے، امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی مثال ہیں۔
Iran US Tensions: امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائی، کویت اور بحرین میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ماجد موسوی نے کہا کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو ایران پورے خطے کو اس کے لیے "جہنم" بنا دے گا۔انہوں نے کہا، "کیا آپ مقدس آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں؟ ہم پورے ایران سے اس خطے کو آپ کے لیے جہنم بنا دیں گے۔"
Iran-Israel War: ایرانی میزائل حملوں کے بعد شمالی اسرائیل میں ہائی الرٹ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایران کی کارروائی کو "بہت بڑی غلطی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج ہر ممکنہ حملے کا جواب دینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی سربراہ ایال ضمیر مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ اقدامات سے متعلق منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں۔
Global Positioning System: جی پی ایس پر حملہ معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، امریکی قانون سازوں کا انتباہ
ہاؤس کمیٹی کے چیئرمین بریٹ گوتھری نے کہا کہ ایسے خطرات دنیا کے مختلف تنازعہ زدہ علاقوں میں پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا، "ہمارے مخالف ممالک جنگی علاقوں میں جی پی ایس سگنلز کو جام اور اسپوف کر رہے ہیں، جس سے فوجی کارروائیوں میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔





