Bharat Express DD Free Dish

Iran-US War

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی)  کی گن بوٹس نے دو بھارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں آئل ٹینکر "سنمار ہیرالڈ" اور بلک کیریئر "جگ ارناو" شامل ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں جہاز ہرمز آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یورپی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ اتحاد مزید مضبوط ہو سکے۔حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس پیش رفت کو مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال میں اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے مختلف انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں آمنے سامنے ملاقات اور الگ الگ کمروں میں بات چیت دونوں آپشن شامل ہیں۔ پاکستان نے دونوں صورتوں کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق، یہ بچے مبینہ طور پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ہلاک ہوئےتھے۔ اس موقع پر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، "مناب 168، اس طیارے میں میرے ساتھی۔

ریپبلکن کانگریس کے لیڈروں نے اس وقت  نیٹو کی اہمیت پر زور دیا۔ سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر ویکر اور ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے کہا، "ایک مضبوط نیٹو امریکہ کے مفاد میں ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوخبردارکیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر معاہدے پرپہنچ جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہوا توحالات مزید خراب ہوں گے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا ہے۔

جنوبی اسرائیل کے اس صحرائی شہر پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایرانی سرکاری میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی Natanz Nuclear Facility پر امریکی-اسرائیلی کارروائی کی خبر دی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یورپ، کوریا، جاپان اور چین کو اس کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں اس معاملے میں آگے آنا ہوگا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔