Bharat Express DD Free Dish

Iran US Peace Talks In Islamabad: امریکہ- ایران جنگ بندی مذاکرات کا فارمیٹ ابھی تک طے نہیں، الگ الگ کمروں میں بھی ہو سکتی ہے بات

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے مختلف انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں آمنے سامنے ملاقات اور الگ الگ کمروں میں بات چیت دونوں آپشن شامل ہیں۔ پاکستان نے دونوں صورتوں کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

نئی دہلی :امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کے لیے دونوں ممالک کے وفود اسلام آبادپہنچ چکے ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ بات چیت کا حتمی فارمیٹ ابھی تک طے نہیں ہو سکا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وفد آج دوپہر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا۔رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد میں 71 افراد شامل ہیں، جو جمعہ کی دیر رات پاکستان پہنچے۔ چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا فارمیٹ ابھی طے نہیں ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے مختلف انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں آمنے سامنے ملاقات اور الگ الگ کمروں میں بات چیت دونوں آپشن شامل ہیں۔ پاکستان نے دونوں صورتوں کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اگر براہ راست مذاکرات نہ ہوئے تو پاکستانی حکام دونوں وفود کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کردار ادا کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور ایرانی وفود اسلام آباد میں ایک ہی ہوٹل میں قیام کریں گے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کے درمیان براہ راست ملاقات کا امکان کم ہے۔ اس کے بجائے دونوں وفود الگ الگ کمروں میں رہیں گے، جب کہ پاکستانی حکام ثالثی کرتے ہوئے پیغامات کا تبادلہ کرائیں گے۔ادھر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے بیانات سے بھی اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمزپر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور یورینیم افزودگی ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کا بنیادی نکتہ یہ ہوگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔

ہرمز بحران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھولا جائے گا، چاہے ایران اس میں شامل ہو یا نہ ہو۔دوسری جانب ایران کے وفد کی قیادت کر رہے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیبات نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نیک نیتی کے ساتھ مگر اعتماد کے بغیر مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے۔

گالیباف نے کہا کہ ماضی کے مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا، “بدقسمتی سے امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا ہمارا تجربہ ہمیشہ ناکامی اور معاہدوں کی خلاف ورزی پر مبنی رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا دار و مدار امریکی مؤقف پر ہوگا۔ گالیباف کے مطابق اگر امریکہ حقیقی معاہدے اور ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوا تو ایران بھی سمجھوتے کے لیے آمادہ ہوگا۔انہوں نے سفارتی کوششوں میں بے ایمانی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ایران سخت ردعمل دے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read