وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ٹرمپ سے تقریباً 40 منٹ تک فون پر بات کی۔ ایران جنگ بندی کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان یہ پہلی بات چیت تھی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ نے آبنا ئے ہرمزکو مکمل طور پر بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں فون کیا تھا۔
Received a call from my friend President Donald Trump. We reviewed the substantial progress achieved in our bilateral cooperation in various sectors. We are committed to further strengthening our Comprehensive Global Strategic Partnership in all areas. We also discussed the…
— Narendra Modi (@narendramodi) April 14, 2026
نریندرمودی نے اپنے پیغام میں کہا، “میرے دوست صدر ٹرمپ کا فون آیا۔ ہم نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون میں ہونے والی اہم پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ہم تمام شعبوں میں اپنی جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔”
قابل ذکر ہے کہ ایران جنگ بندی کے بعد پاکستان کی قیادت میں ہونے والی امن مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں پاکستان، امریکہ اور ایران کے نمائندوں نے تقریباً 21 گھنٹے تک ایران جنگ، اس کے اثرات اور امن بحالی کی کوششوں پر بات چیت کی، تاہم اس مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اس پیش رفت کو مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال میں اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

