Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis: امریکہ- ایران  سےمذاکرات پر آمادہ، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان — ڈیل ہو کر رہے گی

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان سے وابستہ افراد نے بتایا کہ جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں لیڈر اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے اور ممکنہ سیزفائر و مستقبل کی ڈیل پر بات چیت کریں گے۔

نئی دہلی : امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ سیزفائر کے خاتمے کی الٹی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے وفود امن مذاکرات کے لیے پاکستان کا رخ کریں گے۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، دو اعلیٰ حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ اور ایران کے نمائندے جلد ہی پاکستان میں امن مذاکرات کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےےکہ  ابھی تک نہ تو امریکہ اور نہ ہی ایران نے باضابطہ طور پر مذاکرات کے وقت یا تاریخ کی تصدیق کی ہے۔ اس کے باوجود سفارتی حلقوں میں اس ممکنہ ملاقات کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں لیڈر اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان سے وابستہ افراد نے بتایا کہ جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں لیڈر اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے اور ممکنہ سیزفائر و مستقبل کی ڈیل پر بات چیت کریں گے۔ اس ملاقات کو خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ایک “بہترین ڈیل” ہونے جا رہی ہے، لیکن ساتھ ہی سیزفائر میں توسیع کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ٹرمپ کے اس بیان نے سفارتی سرگرمیوں کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا

سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک بہترین ڈیل کریں گے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، لیکن ہم کامیابی حاصل کریں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ سیزفائر کو بڑھایا جائے۔”تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی استحکام کی نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عالمی توانائی مارکیٹ اور خطے کی سلامتی پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔فی الحال دنیا کی نظریں ممکنہ مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان میں ہونے والی یہ ملاقات کامیاب رہتی ہے تو یہ سفارتی سطح پر ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں امن کی نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read