Urdu Conclave 2026

Iran US War: امریکہ-ایران کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی

یہ گراوٹ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خام تیل میں ہونے والی زبردست تیزی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے،

نئی دہلی : امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں میں وقفے کے اشارے ملنے کے بعد پیر کو عالمی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے اہم بینچ مارکس تقریباً 5 فیصد تک گر گئے، جس سے سرمایہ کاروں میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی۔صبح تقریباً 10:20 بجے بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت 4.8 فیصد سے زائد، یعنی تقریباً 4.64 ڈالر فی بیرل کم ہو کر 87.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 5.09 فیصد یا تقریباً 4.56 ڈالر کی کمی کے بعد 85 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ بڑی کمی اس وقت سامنے آئی جب ایران نے عندیہ دیا کہ اگر امریکہ بھی اپنی فوجی کارروائیاں روک دیتا ہے تو تہران مزید حملے نہیں کرے گا۔ اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حل کی امیدیں مضبوط ہوئیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی فروخت میں اضافہ ہوا اور قیمتیں نیچے آگئیں۔

یہ گراوٹ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خام تیل میں ہونے والی زبردست تیزی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جو دنیا کے اہم ترین توانائی تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔

مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بحیرۂ احمر میں واقع سعودی آرامکو کی جیزان اور ینبع بندرگاہوں پر حملوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں جغرافیائی و سیاسی خطرات اب بھی برقرار ہیں۔ اگرچہ پیر کو قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، اس کے باوجود رواں ماہ خام تیل کی قیمتیں مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد بلند سطح پر موجود ہیں۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سپلائی چین سے متعلق خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت ابھی معمول پر نہیں آئی ہے۔ اسی وجہ سے توانائی کی عالمی منڈی اب بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ادھر بھارتی کرنسی روپے میں بھی پیر کو بہتری دیکھی گئی۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 41 پیسے مضبوط ہو کر 96.15 پر کھلا، جبکہ گزشتہ کاروباری سیشن میں یہ 96.56 پر بند ہوا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے بھارت جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس سے روپے کو بھی کچھ حد تک سہارا مل سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read