Bharat Express DD Free Dish

Crude Oil Prices

یہ گراوٹ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خام تیل میں ہونے والی زبردست تیزی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عرصے میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے،

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں نے مغربی ایشیا میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

انڈیگو، ایئرانڈیا اور اکاسا ایئرسمیت ملک کی بڑی فضائی کمپنیوں نے رواں سال مارچ میں ایندھن سرچارج نافذ کیا تھا۔ اب جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے، فضائی کمپنیوں نے اس اضافی سرچارج کو ختم کرنے کے وقت اور طریقۂ کار پر اندرونی مشاورت شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب وزارت پٹرولیم نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وزارت کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے کہا کہ ملک کی تمام ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔

جولائی کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں شامل اضافی رسک پریمیم میں کمی آئی ہے کیونکہ سفارتی حل کی امیدیں مضبوط ہوئی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آنے میں ابھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں اوپیک کی خام تیل پیداوار بھی 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

مغربی ایشیا میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اگر جون تک جاری رہی تو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خلیجی خطے کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کے بند ہونے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ میکوری کے اندازے کے مطابق اس صورت حال سے بھارت میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مغربی ایشیا میں جنگ بندی (سیزفائر) کی امیدوں کے درمیان عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے۔