Bharat Express DD Free Dish

Iran US Conflict

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے عالمی سطح پر ٹول وصول کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم یہ تجویز عملی طور پر مشکل اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھی جا رہی ہے۔

حزب اللہ کےلیڈر علی فیاض نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کسی بھی براہ راست بات چیت کو قبول نہیں کرے گا اور سب سے پہلے اسرائیل کو حملے بند کرنے اور اپنی فوج واپس بلانا ہوں گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل آف ایران نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ سیزفائر کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کونسل نے کہا کہ ایرانی افواج مکمل چوکس ہیں اور دشمن کی کسی بھی غلطی پر پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

امریکہ-ایران جنگ میں اب کم جونگ اُن کی وائلڈ کارڈ انٹری ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان اور جنوبی کوریا کو تنبیہ دیتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان ممالک نے امریکہ کی مدد نہیں کی۔

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان صدر ٹرمپ نے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اکثر سخت، متنازع اور غیر شائستہ ہوتے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے Truth Social پر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے جو پوسٹ لکھی، اس پر کئی لوگوں نے تنقید کی ہے۔ اس پوسٹ کے مذہبی انداز پر امریکہ کی ایک اسلامی تنظیم نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

ایرانی فوج نے ایک ہی کارروائی میں چار امریکی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے مطابق یہ تمام طیارے ایک امریکی پائلٹ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن میں مصروف تھے۔ ایرانی حملے میں دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور دو ٹرانسپورٹ طیارے تباہ کر دیے گئے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔