Bharat Express DD Free Dish

Iran US Conflict

ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے عالمی توانائی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس وافر مقدار میں ایندھن موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو ممالک ہرمز کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں دو راستے اختیار کرنے چاہیے۔ پہلا یہ کہ وہ امریکہ سے خریداری کریں اور دوسرا یہ کہ خود آبنائے ہرمز میں جا کر ایندھن حاصل کریں۔

مالی سال کے آخری دن شیئر بازار میں بھاری گراوٹ، سینسیکس 1,635 اور نفٹی 488 پوائنٹس ٹوٹ گئے۔ مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے، بینکنگ اور ریئلٹی سیکٹر سب سے زیادہ متاثر۔

موجودہ دور میں دنیا کی تقریباً 95 سے 97 فیصد انٹرنیٹ سپلائی انہی سب میرین کیبلز کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ کیبلز دنیا کے مختلف ممالک کو آپس میں جوڑتی ہیں، جس کے ذریعے بینکنگ، آن لائن ادائیگیاں، ای کامرس، کلاؤڈ سروسز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام چلتے ہیں۔

ایران جنگ کے باعث ملک اور دنیا بھر کے شیئر بازاروں میں گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بھارت میں صرف چار دنوں کے اندر 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ ریلائنس اور ایچ ڈی ایف سی بینک کو سب سے زیادہ خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر 20 لاکھ ڈالر وصولی کا دعویٰ  بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ بات ایران کے بھارت میں واقع سفارت خانے نے دعوؤں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہی۔

ایران نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اس پر اسپتالوں، امدادی مراکز اور اسکولوں پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، لیکن اس نے ان کا جواب اسی نوعیت میں نہیں دیا۔ تاہم اگر بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی اسی انداز میں جواب دے گا۔

جنوبی اسرائیل کے اس صحرائی شہر پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایرانی سرکاری میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی Natanz Nuclear Facility پر امریکی-اسرائیلی کارروائی کی خبر دی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یورپ، کوریا، جاپان اور چین کو اس کی ضرورت ہے، اس لیے انہیں اس معاملے میں آگے آنا ہوگا۔

امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جوزف کینٹ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ یہ حملہ غیر ضروری تھا اور وہ اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کو براہِ راست خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی کمپنیوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔