گزشتہ ایک ماہ سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ جو ایران پہلے امریکی حملوں کے بعد دفاعی پوزیشن میں نظر آ رہا تھا، اب وہ زیادہ جارحانہ ہو گیا ہے۔ اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) بدلے کی آگ میں شدت سے ردعمل دے رہا ہے۔ اس کی ایک جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی جب ایرانی فوج نے ایک ہی کارروائی میں چار امریکی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے چار امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا، جو ایک امریکی پائلٹ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن پر مامور تھے۔ ایرانی حملے میں دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور دو ٹرانسپورٹ طیارے تباہ کر دیے گئے۔ آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی اصفہان کے علاقے میں کی گئی۔
ایران نے پہلے بھی F-15E طیارہ گرایا تھا
آئی آر جی سی کے مطابق امریکی فوج اس F-15E طیارے کے پائلٹ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن چلا رہی تھی، جسے ایران نے پہلے مار گرایا تھا۔ اسی دوران ایرانی فوج نے امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں دو C-130 ٹرانسپورٹ طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ کیے گئے، جو ریسکیو مشن پر نکلے تھے۔ دراصل چند روز قبل ایران نے ایک امریکی F-15E طیارہ مار گرایا تھا، جس کے بعد اس طیارے کو اڑانے والا امریکی فوج کا کرنل رینک کا افسر ایران کے پہاڑی علاقے میں لاپتہ ہو گیا تھا۔
جوابی حملوں سے بے بس امریکہ
ایران کے سخت جواب کے بعد امریکہ شدید ناراض دکھائی دے رہا ہے۔ اس نے ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا، جسے ایران نے مسترد کر دیا۔ ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کے جوابی حملوں سے بے بس نظر آ رہا ہے، اسی وجہ سے ٹرمپ مسلسل سخت بیانات دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یا تو ایران آبنائے ہرمز کھول دے یا معاہدہ کرے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو امریکہ اس کے توانائی کے مراکز کو تباہ کر دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
