نئی دہلی :اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حالیہ حملوں کے چند ہی دن بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 300 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے امریکہ میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان مذاکرات میں جنگ بندی اور موجودہ صورتحال پر بات چیت کی جائے گی تاکہ کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکالا جا سکے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب ایران اور امریکہ کے درمیان بھی پاکستان میں بات چیت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں دونوں فریقوں کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ لبنان کو اس میں شامل کیے جانے کو لے کر تنازع برقرار ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہ راست مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی جاری رہے گی۔
حزب اللہ نے مذاکرات مسترد کر دیے
حزب اللہ کےلیڈر علی فیاض نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کسی بھی براہ راست بات چیت کو قبول نہیں کرے گا اور سب سے پہلے اسرائیل کو حملے بند کرنے اور اپنی فوج واپس بلانا ہوں گا۔ لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیا گیا تھا یا نہیں، یہ معاملہ اب ایک بڑا تنازع بن چکا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں تھا، جبکہ ایران اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ لبنان کو اس میں شامل کیا گیا تھا۔اس دوران اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ سے منسلک لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور کارروائیاں جاری رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



