نئی دہلی: ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات معطل کرنے کے دعووں کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔” ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد تہران نے امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کو روک دیا ہے۔
ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کی انتہائی مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بیروت میں کسی بھی فوجی کارروائی کا منصوبہ نہیں ہے اور جو فوجی دستے اس سمت میں روانہ تھے، انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اعلیٰ سطحی نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ کے ساتھ بھی مفید بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں نے فائرنگ بند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل کے خلاف کارروائی سے گریز کرے گی۔
دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ لبنان پر حملوں کے بعد ایرانی مذاکراتی ٹیم نے امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے جاری رابطے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایران اور اس کے اتحادی گروپوں نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے کی حکمت عملی پر غور کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ گروپوں میں یمن، لبنان اور عراق کے شیعہ اتحادی شامل ہیں۔ اگر یمن کے حوثی باغی جنگ میں نیا محاذ کھولتے ہیں تو آبنائے باب المندب ممکنہ ہدف بن سکتی ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے بحری جہاز سویز نہر کی جانب سفر کرتے ہیں۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مختلف محاذوں پر جاری ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسی کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔ خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری جنگ بندی کے قیام اور تنازع کے پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



