ایران میں جاری فوجی کارروائی کے درمیان امریکی انتظامیہ کے ایک بیان نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک (Howard Lutnick) نے ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان پر معذرت کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انٹرویو کے دوران ان سے بڑی غلطی ہوئی اور انہوں نے غلط معلومات دے دی تھیں۔ لوٹنک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں فوجی کارروائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے وقت ان سے غلطی سے غلط بات کہی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس تنازع میں امریکی فوج کے 18 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس نقصان سے ان کا دل ٹوٹ گیا ہے اور انہیں خاندانوں کے دکھ پر بے حد افسوس ہے۔
وینزویلا مہم کی وجہ سے ہوا کنفیوژن
لوٹنک نے اپنی غلطی کی وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق اس وقت ان کے ذہن میں وینزویلا میں چلایا گیا امریکی فوجی آپریشن تھا۔ اس مہم کے دوران کسی امریکی فوجی کی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے ایران سے متعلق سوال کا جواب دیتے وقت ان سے غلط تعداد بیان ہو گئی۔وزیر نے اپنے بیان میں 9/11 حملے کی 25ویں برسی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اور ملک کی خدمت کرنے والے فوجیوں کی قربانیوں کا وہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ لوٹنک نے بتایا کہ 9/11 حملے میں انہوں نے اپنے بھائی گیری، قریبی دوست ڈگ اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملے میں مارے گئے کئی دیگر جاننے والوں کو کھو دیا تھا۔
ٹرمپ کی پوسٹ کے بعد مانگی معافی
لوٹنک کا متنازع بیان بدھ کی صبح ایک انٹرویو کے دوران سامنے آیا تھا۔ ابتدا میں اس پر زیادہ بحث نہیں ہوئی، لیکن جمعرات کو یہ معاملہ تیزی سے سرخیوں میں آ گیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے کی شدت کم کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ کی پوسٹ کے تقریباً 45 منٹ بعد لوٹنک نے عوامی طور پر معافی مانگ لی۔
پہلے بھی اٹھ چکے ہیں سوالات
ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے سے متعلق اعداد و شمار پر امریکی انتظامیہ پہلے بھی سوالات کی زد میں رہی ہے۔ جولائی میں محکمہ دفاع کی ویب سائٹ سے 4 ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں سے متعلق اعداد و شمار ہٹائے جانے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق میڈیا کی رپورٹنگ پر تنقید کر چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
