Bharat Express DD Free Dish

West Asia Crisis

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی طاقتیں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پاکستان کی یہ سرگرمیاں خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو امن کے ضامن کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

کانگریس نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے کشیدگی میں کمی، سفارت کاری کی بحالی، تعمیری مذاکرات اور بالآخر پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ-اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے کے بعد سے ہی بھارت نے عالمی امن کی بات دہرائی ہے۔ وزیراعظم نے خلیج کے تمام سربراہان سے الگ الگ بات کی اور اپنی فکر ظاہر کی۔ انہوں نے ہمیشہ اس مسئلے کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو درست قرار دیا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری سینسیٹو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 11.67 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی اوسط قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر پنجاب کے مختلف شہروں میں قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائی کے بعد ٹرمپ اور مودی کے درمیان یہ پہلی بات چیت تھی۔ وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں دونوں لیڈران نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور امن برقرار رکھنے پر زور دیا۔

وزیراعظم مودی نے طویل مدتی تیاری کے تحت بایوفیول، سولر توانائی، گوبر دھن منصوبہ، الیکٹرک موبیلیٹی اور پائپڈ نیچرل گیس کے فروغ پر زور دیا۔ ساتھ ہی ریاستوں کے تعاون سے ملکی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت بھی بیان کی۔

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم فوجی واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکی فضائیہ کا جدید جنگی طیارہ ایف-15ای اسٹرائک ایگل کویت کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہو کر گر گیا۔ طیارے کے پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کرتے ہوئے پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچالی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی پیش رفت کے بعد بھارت کی حکومت نے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خطے میں جاری تنازعہ اگر طویل عرصے تک جاری رہا تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی خسارے میں وسعت اور بھارتی روپے پر دباؤ معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔