نئی دہلی: مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان بھارت نے خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے وزیراعظم اور ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو کی۔
فون پر بات چیت اور خدشات کا اظہار
وزیراعظم مودی نے اس کی معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر بات چیت کے دوران مشرق وسطیٰ کے بحران پر اپنی فکرمندی ظاہر کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے توانائی کے مقامات پر جاری حملوں کی مذمت کی۔
سمندری راستوں کی حفاظت پر اتفاق
اس کے ساتھ دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سمندری راستے کھلے رکھے جائیں۔ انہیں سب کے لیے محفوظ رہنا چاہیے اور بین الاقوامی تجارت پر اثر نہ پڑے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم نے اس گفتگو میں سعودی ولی عہد کا وہاں موجود بھارتی کمیونٹی کی حمایت کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔
بتاتے چلیں کہ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز ور دیگر اہم سمندری راستوں کے حوالے سے دنیا میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ جاری تنازع کی وجہ سے تیل، گیس اور تجارتی مال کی نقل و حمل میں رکاوٹ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثرات
یہ بات چیت خلیج میں بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو بھی ظاہر کرتی ہے، کیونکہ نئی دہلی اپنے توانائی کے مفادات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، غیر ملکی بھارتیوں کا تحفظ کرنا چاہتا ہے، اور بھارت کی معیشت اور اسٹریٹجک مفادات کے لیے ضروری اس خطے میں استحکام کے لیے زور دینا چاہتا ہے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ-اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے کے بعد سے ہی بھارت نے عالمی امن کی بات دہرائی ہے۔ وزیراعظم نے خلیج کے تمام سربراہان سے الگ الگ بات کی اور اپنی فکر ظاہر کی۔ انہوں نے ہمیشہ اس مسئلے کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو درست قرار دیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ بھی رابطہ
24 مارچ کو ہی وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی تھی۔ اس دوران بھی مغربی ایشیا کی صورتحال پر سنجیدہ غور و خوض ہوئی۔ وزیراعظم نے ایکس پر لکھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس خطے میں امن و استحکام قائم رہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


