Bharat Express DD Free Dish

Prime Minister Narendra Modi

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے کے طریقے بھی مختلف ہیں۔ خدمت کی خوشی میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ معاشرہ کس طرح ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگوں کی بات سنتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے اور یہی خوشی ہمارے لیے توانائی بن جاتی ہے۔وزیر اعظم نے سیوا یاتریوں سے کہا کہ وہ اس سفر کو پوری طرح جئیں۔

وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تخلیقات نے ادب کو مالا مال کرنے کے ساتھ ساتھ مادرِ وطن کے تئیں لگن اور قربانی کے جذبے کو بھی تقویت دی۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ رام دھاری سنگھ دنکر کی عظیم شخصیت اور ان کا لازوال ادبی کارنامہ یگوں یگوں تک ہندوستانیوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

پی ایم مودی نے کہا، ’’میں آپ تمام نوجوان ساتھیوں اور آپ کے اہل خانہ کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ زندگی کے اس نئے آغاز کے لیے میری جانب سے آپ سب کو نیک خواہشات۔‘انہوں نے کہا کہ آج آپ سب ایسے وقت میں بھارت سرکار سے وابستہ ہوئے ہیں، جب ملک ایک بہت بڑے ہدف کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہدف 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر ہے۔

زیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق 17 سے 19 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والی تین روزہ کانفرنس اور نمائش کا موضوع سلی کان سے سسٹم تک: ماحولیاتی نظام کی تعمیر ہوگا۔اس پروگرام میں سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کی قدر کی زنجیر سے وابستہ عالمی اور بھارتی کمپنیاں، پالیسی ساز، سرمایہ کار، محققین، اسٹارٹ اپس، تعلیمی ادارے اور طلبہ ایک جگہ جمع ہوں گے۔کانفرنس کا بنیادی مقصد بھارت میں باہمی تعاون، سرمایہ کاری،

وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر فرضی دستاویزات تیار کی گئیں اور زمین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ان کے مطابق، ایک حصے کا مالک سویم بلڈرز اور دوسرے حصے کا مالک سیون الیون کنسٹرکشنز کو مالک بتایا گیا۔ سیون الیون کنسٹرکشنز کا تعلق بی جے پی رکن اسمبلی نریندر مہتا سے ہے ۔وورا کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 15 برس سے مختلف سرکاری محکموں کے سامنے اس معاملے کو اٹھاتے رہے ہیں۔

اس اشلوک کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ماہر انسان کو چاہیے کہ وہ چھوٹے اور بڑے تمام شاستروں سے اسی طرح علم کا نچوڑ حاصل کرے، جیسے شہد کی مکھی مختلف پھولوں سے رس حاصل کرتی ہے۔وزیر اعظم کی یہ پوسٹ سامنے آتے ہی نوجوانوں، دانشوروں اور عام شہریوں کے درمیان تیزی سے بحث کا موضوع بن گئی۔ لوگوں نے اس بات کو سراہا کہ وزیر اعظم سناتن ثقافت اور قدیم شاستروں کے خیالات کے ذریعے عوام کو علم اور مثبت سوچ کی ترغیب دے رہے ہیں۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے دور کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ منصوبہ بند حکمت عملی، عزم اور قابل افسران کی مدد سے آبی بحران کو موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ کھیلوں سے جڑنے کے لیے متعدد نئے ذرائع پیدا ہو رہے ہیں۔ کھیلوں کے نئے آلات آئے ہیں، تربیت کے طریقے تبدیل ہوئے ہیں اور کھیلوں کے انعقاد، مختلف کھیلوں اور مسابقت کی ضروریات بھی بدل گئی ہیں۔

پی چدمبرم نے وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’دماغی نکسل‘ کہلانے پر فخر ہے۔ ان کے اس بیان کو مرکز کی پالیسیوں اور وزیر اعظم کی سیاسی زبان کے خلاف کانگریس کی مخالفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔کانگریس اس سے قبل بھی وزیر اعظم کی جانب سے ’اربن نکسل‘ اور اب ’دماغی نکسل‘ جیسے الفاظ کے استعمال پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔

وزیر اعظم کے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تقسیم کے سانحے کو یاد کرنے کا مقصد معاشرے میں نفرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا اور باہمی اتحاد و خیرسگالی کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے