Bharat Express DD Free Dish

Prime Minister Narendra Modi

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا ایک مضمون شیئر کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘ پہل مقامی دستکاری کو بازار تک رسائی دلانے، پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بھارت کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پالیسیوں میں استحکام، سماجی ہم آہنگی اور قدیم تہذیبی اقدار کے ساتھ جدید ترقی کا امتزاج ہی بھارت کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ بھارت اپنی ثقافتی وراثت اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر ایک باوقار اور بااثر ملک کے طور پر آگے بڑھتا رہے گا۔

وزیر اعظم مودی نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن، نیوزی لینڈ حکومت، لیبر پارٹی اور تمام معزز شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کو وسیع سیاسی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں بھارتی برادری کی کامیابیاں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔

وزیر اعظم مودی جمعہ کی شام مقامی وقت کے مطابق آکلینڈ پہنچے تھے، جہاں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ اس استقبال کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔نیوزی لینڈ پہنچنے کے فوراً بعد وزیر اعظم مودی نے بھارتی برادری سے ملاقات کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بحری سلامتی، خلائی تعاون، دفاع، اسٹیل سپلائی چین، نایاب معدنیات، صحت، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں اہم مفاہمتی دستاویزات کا تبادلہ بھی ہوا، جو دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

دسویں صدی میں تعمیر ہونے والا پرمبانن انڈونیشیا کا سب سے بڑا ہندو مندر ہے، جو بنیادی طور پر بھگوان شیو کے نام سے منسوب ہے۔ اس وسیع و عریض مذہبی کمپلیکس میں شیو، وشنو اور برہما کے بلند و بالا مندر موجود ہیں، جب کہ ان کی دیواروں پر رامائن اور دیگر ہندو رزمیہ داستانوں کی نفیس سنگ تراشی بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کے قدیم ثقافتی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔

فوڈ چین کی بانی شلپا دوے اور ان کی پوری ٹیم وزیر اعظم نریندر مودی کی آمد کے لیے بے حد پُرجوش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین موقع ثابت ہوگا۔آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے شلپا دوے نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی اس سے قبل بھی انڈونیشیا آ چکے ہیں

وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میں سیمی کنڈکٹر صنعت کا فروغ اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران الیکٹرانکس کے شعبے میں آنے والے انقلاب کا اگلا مرحلہ ہے۔ پہلے ملک میں الیکٹرانک مصنوعات کی تیاری پر زور دیا گیا،

وزیر اعظم مودی  نے کہا، "پانچ سال پہلے ہم نے عزم کیا تھا کہ بھارت کو سیمی کنڈکٹر ہب بنائیں گے۔ ہم 'ڈیزائن اِن انڈیا' اور 'میک اِن انڈیا' کے وژن کے ساتھ آگے بڑھے اور آج ملک کے تیسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں بھی چِپ پیکیجنگ کی تجارتی پیداوار کا آغاز ہو رہا ہے۔"انہوں نے یاد دلایا کہ انہیں 2024 میں اسی پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ بات چیت، سفارت کاری اور پرامن حل کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تنازع کا پائیدار حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔