نئی دہلی: مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی پیش رفت کے بعد بھارت کی حکومت نے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خطے میں جاری تنازعہ اگر طویل عرصے تک جاری رہا تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی خسارے میں وسعت اور بھارتی روپے پر دباؤ معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ ریاستی دوروں سے واپسی کے فوراً بعد اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں کابینہ کمیٹی برائے سلامتی اور اہم معاشی وزارتوں نے مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی سپلائی، مالیاتی استحکام اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں سے آنے والی ترسیلات زر پر ممکنہ اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔
دریں اثنا ہفتے کے روز اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے متعدد عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں نے خطے میں طویل عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کے باعث خلیجی خطہ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت ایشیا کی ان بڑی معیشتوں میں شامل ہے جو تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ ملک اپنی تیل ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ درآمدی تیل کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 65 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ اسی دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کے انخلا کے باعث بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوا اور اس کی قدر میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر تیل مارکیٹنگ کمپنیاں فوری طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرتیں تو مہنگائی پر قلیل مدتی اثر محدود رہ سکتا ہے، تاہم سرمایہ کے اخراج سے مالیاتی دباؤ بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال مضبوط گھریلو طلب اور معاشی سرگرمیاں بھارت کے لیے سہارا فراہم کر رہی ہیں، لیکن اگر تنازعہ طویل ہوا تو مہنگائی، جاری کھاتوں کے خسارے اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ خطرات زیادہ تر قلیل مدتی نوعیت کے ہیں اور مناسب پالیسی اقدامات کے ذریعے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم بحران کی مدت ہی مستقبل کے معاشی دباؤ کا تعین کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

