Bharat Express DD Free Dish

India US relations

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کو ’ریفائننگ سپر پاور‘ قرار دیتے ہوئے توانائی کے شعبے میں اس کے اہم کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے بھارت اور امریکہ کے مجوزہ تجارتی معاہدے پر بھی جلد بڑی پیش رفت کا اشارہ دیا۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے ہیں اور مذاکرات اب بھی اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر جاری ہیں۔ ان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔ عہدیدار نے جمعہ کو وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے کہا، ’’سب سے بڑے مسائل حل کر لیے گئے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ یہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اب صرف ایک یا دو فیصد کام باقی ہے۔‘‘

بھارت کے دورے پر آئے امریکی ریاست مونٹانا کے گورنر گریگ جین فورٹے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی بھرپور ستائش کی ہے۔ ایک تجارتی مشن کے سلسلے میں بھارت پہنچے جین فورٹے نے بدھ کو کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت نہ صرف بھارت کے لیے اہم ہے بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک مثال پیش کر رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوئی بات چیت کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر معلومات دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے مسلسل رابطہ اور قریبی تال میل برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ امریکی سفیر کے دورے کے دوران پنجاب، سکھ حقوق اور ہندوستان-پاکستان تعلقات سے متعلق مسائل ان کے سامنے اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دورہ سکھ برادری کے لیے اہم ہے۔

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے بعد ہی واضح ہوگا کہ مجوزہ ٹیرف کی حتمی شکل کیا ہوگی اور بھارت پر اس کا براہِ راست کتنا اثر پڑ سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

امریکی رکن کانگریس تھانیدار نے آئی اے این ایس کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں بھارت کی ترقی قابل ستائش رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور بھارت کو چین کے چیلنج کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گزشتہ جون امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی وفد کے ہمراہ بھارت کے مرکزی وزیرتجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔