Bharat Express DD Free Dish

India US relations

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے بعد ہی واضح ہوگا کہ مجوزہ ٹیرف کی حتمی شکل کیا ہوگی اور بھارت پر اس کا براہِ راست کتنا اثر پڑ سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

امریکی رکن کانگریس تھانیدار نے آئی اے این ایس کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں بھارت کی ترقی قابل ستائش رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور بھارت کو چین کے چیلنج کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گزشتہ جون امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی وفد کے ہمراہ بھارت کے مرکزی وزیرتجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

بھارت اور امریکہ نے دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ اور مجرموں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی خریداری کے مختلف معاہدوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید فروغ دیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت جی-7 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور آؤٹ ریچ عمل میں یہ اس کی 13ویں شرکت ہے۔

جی-7 اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی کی کئی اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان شامل ہیں۔ کل وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

خلیجِ عمان میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے بعد نئی دہلی نے واشنگٹن کے سامنے شدید احتجاج درج کرایا ہے اور بھارتی ملاحوں کی ہلاکت اور سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی قانون سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھارت کے سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کی ہے۔