West Asia crisis: جی-7 سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات متوقع، مغربی ایشیا، توانائی اور تجارتی معاہدے پربات چیت کا امکان
وزیراعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت جی-7 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور آؤٹ ریچ عمل میں یہ اس کی 13ویں شرکت ہے۔
PM Modi speaks to US President: وزیراعظم مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر اہم بات چیت، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
All-Party Meeting: مغربی ایشیا بحران کے پیش نظر مرکزی حکومت نے طلب کی آل پارٹی میٹنگ، خطے کی بدلتی صورتحال پر ہوگا تفصیلی تبادلہ خیال
یہ بحران 28 فروری کو شروع ہونے والے واقعات کے بعد شدت اختیار کر گیا، جب امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران نے جوابی حملے کیے۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں عدم استحکام بڑھا اور عالمی توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
Diplomatic Outreach: پچھلے 48 گھنٹوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی 8 ممالک کے لیڈروں سے بات چیت، خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے دوران امن کی اپیل
بھارت کی جانب سے یہ مسلسل سفارتی رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ نئی دہلی مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن، استحکام اور وہاں مقیم بھارتی برادری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔
PM Modi will visit China: وزیراعظم کریں گے چین کا دورہ، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی امید، وادی گلوان تنازعہ کے بعد پہلا دورہ
وزیراعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں جاپان اور چین کا دورہ کریں گے۔ جاپان کے دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے، جب کہ پی ایم مودی چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔





