واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسے جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس میں حفاظتی انتظامات محدود ہیں۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ معاہدے کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا اس فریم ورک میں اتنے مؤثر حفاظتی انتظامات موجود ہیں کہ سعودی عرب میں تیار کیے جانے والے یورینیم کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکی پالیسی پر بھی سوالات
ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگ سکتا ہے، اگر خطے میں اس کے حریف سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ سابق سینئر امریکی محکمۂ خارجہ کے عہدیدار رابرٹ آئن ہورن نے کہا کہ اگرچہ یہ معاہدہ امریکی جوہری صنعت کو دوبارہ متحرک کرنے، امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط کرنے اور روس و چین کو سعودی جوہری پروگرام میں اہم کردار حاصل کرنے سے روکنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم مناسب پابندیاں نہ ہونے کی صورت میں یہ مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر جوہری پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔
امریکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے کاروباری مواقع ملنے کی توقع
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس جوہری معاہدے سے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں شامل امریکی کمپنیوں کو دسیوں ارب ڈالر کے کاروباری مواقع ملنے کی توقع ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ریاض کی بنیادی ترجیح اس معاہدے کے ذریعے یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت جیسے جیسے جوہری ری ایکٹر منصوبے آگے بڑھیں گے، واشنگٹن اور ریاض دو سال تک مشترکہ جائزہ لیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ سعودی عرب میں مقامی طور پر یورینیم افزودگی تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل ہے یا بیرونِ ملک سے جوہری ایندھن درآمد کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اگر جائزے کا نتیجہ مثبت رہا تو امریکی ادارے سعودی سرزمین پر یورینیم افزودگی کا ایک پلانٹ تعمیر کریں گے۔
سعودی عرب کا ’گولڈ اسٹینڈرڈ‘ عہد قبول کرنے سے انکار
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق سعودی عرب نے اس ’’گولڈ اسٹینڈرڈ‘‘ عہد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے تحت کوئی ملک مستقل طور پر اپنے ملک میں یورینیم افزودگی اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ سے دست بردار ہونے کا عہد کرتا ہے۔ پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات اس طرح کی پابندی قبول کر چکا ہے۔ سعودی حکام نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کے ’’ایڈیشنل پروٹوکول‘‘ کو بھی قبول نہیں کیا۔ یہ معاہدہ جوہری تنصیبات کے زیادہ سخت معائنے اور نگرانی کے لیے اضافی اختیارات فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان ضمانتوں کی عدم موجودگی میں یورینیم کو غیر شہری مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے یا خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاض کے ساتھ طے پانے والا ایک الگ دو طرفہ معاہدہ امریکی فراہم کردہ جوہری تنصیبات کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے گا۔ ناقدین پھر بھی ان یقین دہانیوں پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کو جوہری معاہدہ دینے پر امریکی سفارت کاری پر تنقید
خارجہ پالیسی کے ماہرین نے اس جوہری معاہدے پر ایک اور وجہ سے بھی تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں سفارتی پیش رفت کو سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے جوڑا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے سعودی عرب کو جوہری معاہدہ دے دیا، لیکن اس کے بدلے کوئی اہم اسٹریٹجک رعایت حاصل نہیں کی۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاض کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنا واشنگٹن کے لیے ایک مشکل صورتِ حال پیدا کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی انتظامیہ ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر جامع اور سخت پابندیاں قبول کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
محمد بن سلمان کا ایران سے متعلق سابقہ بیان بھی تشویش کا سبب
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے غیر شہری جوہری عزائم کے امکان کو مسترد نہ کیے جانے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


