Bharat Express DD Free Dish

Nuclear deal

امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف فریقوں کے مفادات کے باعث آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ طویل المدتی امن کے لیے بہت سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں، مشرق وسطیٰ کے دورے میں خلیجی ملک میں موجودگی کے دوران انہوں کہا کہ ہم ایران کے معاملے میں ایک معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔

فی الحال دونوں فریقوں نے مذاکرات کی تصدیق کر دی ہے، لیکن ان کی نوعیت کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت ممکنہ طور پر اسٹیون وٹکاف کی سربراہی میں ہوگی، جو ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی ہیں۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں جوہری مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ ’ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک فوجی کارروائی، دوسرا آپ جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کا معاہدہ کرلیں۔

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ایرانی سفیر کاظم جلالی کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق صورتحال کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر تبادلہ خیال کیاہے۔

دراصل عمان  نے اس بات کی جانکاری دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ اپنے آخری مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ  سید بدر نے کہا کہ  ایران اور امریکہ تہران میں قید امریکیوں کی رہائی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں امریکہ نے بارہا تمام فریقین کی طرف سے مشترکہ جامع منصوبہ بندی (جے سی پی او اے) پر واپسی کے لیے حتمی اقدامات کے لیے اپنی ترجیحات کا اعلان کیا ہے لیکن حقیقت میں کچھ نہیں کیا گیا۔