ایران اور امریکہ کے مابین جوہری معاہدے کو لیکر پیش رفت ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ کئی دور کی میٹنگ کے بعد اب کچھ امیدیں نظرآنے لگی ہیں۔ایرانی اعلیٰ عہدے دار علی شمخانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ تمام اقتصادی پابندیاں ہٹا دی جائیں۔سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر شمخانی نے بدھ کے روز “این بی سی نیوز” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کر دے گا، اور صرف اتنے درجے تک یورینیم افزودہ کرے گا جو شہری مقاصد کے لیے ضروری ہے، اور اس پورے عمل کی بین الاقوامی معائنہ کاروں کو نگرانی کی اجازت دے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ “یہ سب کچھ اس شرط پر ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایران کی شرائط مان لی جائیں تو کیا وہ آج ہی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے؟ تو انھوں نے کہا “ہاں”۔شمخانی نے مزید کہا کہ “ابھی بھی موقع موجود ہے۔ اگر امریکی اپنے وعدوں پر عمل کریں تو ہم بہتر تعلقات قائم کر سکتے ہیں”، اور اس سے “مستقبل قریب میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
ادھر دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے کے ’بہت قریب‘ ہے، اور تہران نے ’کچھ حد تک‘ شرائط پر اتفاق کر لیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ طویل المدتی امن کے لیے بہت سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں، مشرق وسطیٰ کے دورے میں خلیجی ملک میں موجودگی کے دوران انہوں کہا کہ ہم ایران کے معاملے میں ایک معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کو روکنے کے دو طریقے ہیں، ایک بہت ہی اچھا طریقہ مذاکرات کا ہے، دوسرا تشدد کا ہے اور میں دوسرے طریقے سے یہ کام نہیں کرنا چاہتا ہوں۔مذاکرات سے واقف ایک ایرانی ذرائع نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت میں اب بھی ’خلا‘ کو پُر کرنا باقی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


