Bharat Express DD Free Dish

Nuclear Safety

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ادارے نے مزید کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قومی جوہری حفاظتی ریگولیٹرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اب تک کہیں بھی تابکاری کی سطح میں اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔ متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پاور پلانٹ اور اردن و شام کے تحقیقی ری ایکٹر معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

ادارے نے بیان میں کہا کہ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر ایران کے زیر زمین نطنز فیول انریچمنٹ پلانٹ (FEP) کی داخلی عمارتوں کو حالیہ نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ بیان کے مطابق کسی قسم کے تابکاری اثرات متوقع نہیں اور پلانٹ کے اندرونی حصے میں کوئی اضافی نقصان ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔