Saudi Nuclear Deal: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے بڑی سفارتی کامیابی، ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ محدود حفاظتی انتظامات والے جوہری معاہدے کو دی منظوری
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
Natanz Nuclear Safety: ایران میں جوہری مواد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، ریڈیولوجیکل اخراج کا خطرہ نہیں: آئی اے ای اے
ادارے نے مزید کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قومی جوہری حفاظتی ریگولیٹرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اب تک کہیں بھی تابکاری کی سطح میں اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔ متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پاور پلانٹ اور اردن و شام کے تحقیقی ری ایکٹر معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
Iran’s nuclear fuel enrichment plant: عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کی ایران کے نطنز جوہری افزودگی پلانٹ کو نقصان پہنچنے کی تصدیق
ادارے نے بیان میں کہا کہ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر ایران کے زیر زمین نطنز فیول انریچمنٹ پلانٹ (FEP) کی داخلی عمارتوں کو حالیہ نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ بیان کے مطابق کسی قسم کے تابکاری اثرات متوقع نہیں اور پلانٹ کے اندرونی حصے میں کوئی اضافی نقصان ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔





