ویانا: عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران میں جوہری مواد رکھنے والی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اس لیے اس وقت کسی ریڈیولوجیکل اخراج (تابکاری پھیلاؤ) کا خطرہ موجود نہیں۔ ادارے نے فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل برتنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی ممکنہ تابکاری حادثے سے بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے۔ آئی اے ای اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ تازہ ترین دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی بنیاد پر ایران میں جوہری مواد رکھنے والی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بیان کے مطابق اصفہان کے جوہری مقام کے قریب دو عمارتوں کو نقصان کے آثار ضرور دیکھے گئے ہیں، تاہم نطنز میں داخلی راستوں کو پہلے پہنچنے والے نقصان کے بعد مزید کوئی اثر سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سمیت دیگر جوہری تنصیبات پر بھی کسی قسم کے حملے یا نقصان کے شواہد نہیں ملے۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے ایک بار پھر زیادہ سے زیادہ تحمل کی اپیل کی تاکہ کسی ریڈیولوجیکل حادثے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
خطے میں تابکاری کی سطح معمول پر
ادارے نے مزید کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قومی جوہری حفاظتی ریگولیٹرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اب تک کہیں بھی تابکاری کی سطح میں اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔ متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پاور پلانٹ اور اردن و شام کے تحقیقی ری ایکٹر معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے جاری فوجی تنازع کے دوران علاقائی جوہری تحفظ اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش برقرار
رافائل گروسی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم ہتھیاروں کے قریب درجے تک افزودہ یورینیم کے بڑے ذخیرے اور آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو مکمل رسائی نہ دینے کا معاملہ سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق جب تک ایران بقایا حفاظتی معاملات کے حل میں مکمل تعاون نہیں کرتا، ادارہ اس بات کی یقین دہانی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران کو ابھی نشانہ نہ بنایا جاتا تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔ انہوں نے ایرانی حکومت کو ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسے موقع ملتا تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کرتی۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران آئی اے ای اے کی یہ رپورٹ جوہری سلامتی کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


