Bharat Express DD Free Dish

Geopolitics

ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی میت اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں ہزاروں سوگوار اور مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں صرف تہران کی منظور شدہ گزرگاہیں قابل قبول ہوں گی۔ عمان کے مجوزہ عارضی بحری راستے پر اعتراض۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو بھی جہاز ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کا پہلا ردعمل ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایران نے امریکہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرکے بداعتمادی اور وعدہ خلافی کا مظاہرہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس آپریشن میں شامل امریکی طیاروں کو ریاض کے جنوب مشرق میں واقع پرنس سلطان ایئربیس استعمال کرنے یا اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز جیسے اہم اسٹریٹجک راستے پر اثر و رسوخ کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پیغام خطے میں جاری طاقت کی کشمکش اور بدلتے جیو پولیٹیکل حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

واشنگٹن نے ’’آپریشن اکنامک فیوری‘‘ کے تحت ایران کی معیشت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بینکوں اور شراکت دار ممالک پر بھی شکنجہ کسنے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے۔

یہ اعلیٰ سطحی گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ کے حوالے سے ایک نئے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ہیں، جسے علاقائی تجارت اور رابطوں کو ایک نیا رخ دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔