Bharat Express DD Free Dish

International Relations

وزیراعظم مودی نے ایکس پر لکھا: ’’میں جمہوریہ انڈونیشیا کے اعلیٰ ترین اعزاز ’بنتانگ آدی پورنا‘ کو انتہائی عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ یہ اعزاز ہندوستان کے عوام کا ہے۔ یہ انڈونیشیا کے عوام کی محبت اور خیرسگالی کا مظہر ہے اور ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

وزیراعظم آسٹریلیا میں ایک بڑے کمیونٹی پروگرام سے بھی خطاب کریں گے۔ آسٹریلیا میں تقریباً دس لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں اور یہ ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بھارتی برادری کو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون تصور کیا جاتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ڈاکٹر ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان ممالک کے ساتھ بھارت کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً دو ہزار برس پرانے تہذیبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ 1991 میں بھارت کی ’’لک ایسٹ پالیسی‘‘ اختیار کیے جانے کے بعد سیاسی، دفاعی، سلامتی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔

یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس دورے میں دفاع، تجارت، سمندری تعاون اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی توقع ہے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی میت اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں ہزاروں سوگوار اور مختلف ممالک کے اعلیٰ وفود انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچ رہے ہیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تقریب میں آٹھ سربراہانِ مملکت یا حکومت، بارہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان اور متعدد وزرائے خارجہ و خصوصی ایلچی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بھی بیرونی قوتوں کو کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی سے ہوگا۔ 7 جولائی کو قُم میں خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جبکہ 9 جولائی کو ان کے آبائی اور مقدس شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوگا۔