Bharat Express DD Free Dish

International Relations

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

اجلاس میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، انڈونیشیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف برکس ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کئی شراکت دار ممالک کے نمائندوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں سلامتی، علاقائی تعاون اور مشترکہ مفادات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران کو امید ہے کہ عبوری 60 روزہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب امریکی ڈالر تک کے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی بھی جمعہ کو سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ قطر کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک تصور کیا جا رہا ہے۔

تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط اور پھر تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔

صدر لی جے میونگ نے اس امید کا اظہار کیا کہ بھارت اور جنوبی کوریا اقتصادی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، اختراع، تجارت اور عالمی امور میں اشتراک کو مزید فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم ہیں۔

کینیا کے صدر نے بھارت اور کینیا کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مشترکہ مفادات کے پیشِ نظر باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

مالدیپ کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسلسل مدتِ اقتدار کے اعتبار سے ہندوستان کے طویل ترین منتخب وزیر اعظم بننا ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے، جو وزیر اعظم مودی کی قیادت پر ہندوستانی عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کویت میں مقیم بڑی بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے امیرِ کویت کی ذاتی توجہ اور کوششوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پی ایم او کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون ضروری ہیں۔