تہران/برگن اسٹاک (سوئٹزرلینڈ): ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ قطر میں منجمد ایران کے 6 ارب امریکی ڈالر جلد ہی ایران کو واپس مل جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کا حصہ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقے برگن اسٹاک میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود اعلیٰ سطحی مذاکرات ہورہے ہیں۔ سوئس وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد، جبکہ پاکستان اور قطر کے نمائندے ثالث کے طور پر مذاکرات میں شریک ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت بات چیت
یہ مذاکرات 17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت ہو رہے ہیں، جس میں پاکستان ضامن اور قطر ثالث کے طور پر شامل ہے۔ صدر پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایران کے حق میں ہیں اور ان مذاکرات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
6 ارب ڈالر کی واپسی کا دعویٰ
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی قیادت نے ایران کے کئی ایسے حقوق کو تسلیم کیا ہے جن سے پہلے انکار کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق قطر میں منجمد ایران کے 6 ارب ڈالر واپس کیے جائیں گے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران کو یہ منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جا سکتے ہیں، تاہم ان رقوم کو صرف انسانی بنیادوں پر اشیا اور پابندیوں سے مستثنیٰ سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ یہ اثاثے دراصل ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ہیں، جو پہلے جنوبی کوریا کے بینکوں میں موجود تھی اور 2023 میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد قطر منتقل کی گئی تھی۔ بعد ازاں 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد ان تک ایران کی رسائی دوبارہ روک دی گئی تھی۔
آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام بھی ایجنڈے میں شامل
رپورٹ کے مطابق منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی کا انحصار آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور امریکہ و ایران کے درمیان جامع معاہدے کی جانب پیش رفت پر ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق اگر ایران مذاکرات کے دوران افزودہ یورینیم کے ذخائر سمیت دیگر معاملات پر تعاون کرتا ہے تو منجمد رقوم کا کچھ حصہ جاری کیا جا سکتا ہے۔ صدر پزشکیان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات سے سب سے زیادہ ناخوش وہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی بنیادی تشویش ایران کا جوہری پروگرام ہے، جبکہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی خواہش پر اس مؤقف کو تحریری شکل دے کر دستخط بھی کیے جا چکے ہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران کو امید ہے کہ عبوری 60 روزہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب امریکی ڈالر تک کے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


