Bharat Express DD Free Dish

Strategic & Economic Ties: وزیراعظم مودی کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوروں سے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو ملے گی نئی جہت، بحرہند و بحرالکاہل تعاون اور آزاد تجارتی معاہدے ہوں گے اہم

وزیراعظم آسٹریلیا میں ایک بڑے کمیونٹی پروگرام سے بھی خطاب کریں گے۔ آسٹریلیا میں تقریباً دس لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں اور یہ ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بھارتی برادری کو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون تصور کیا جاتا ہے۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے تین ملکی دورے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا دورہ شامل ہے، جہاں بھارت دونوں ممالک کے ساتھ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، بحرہند و بحرالکاہل تعاون اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں اشتراک کو مزید وسعت دینے پر توجہ دے گا۔ وزیراعظم مودی کا یہ آسٹریلیا کا تیسرا دورہ ہوگا۔ وہ تقریباً بارہ برس بعد ملبورن جائیں گے۔ اس سے قبل انہوں نے نومبر 2014 میں ملبورن کا دورہ کیا تھا جبکہ آسٹریلیا کا ان کا آخری دورہ مئی 2023 میں ہوا تھا۔ اس دورے کو جغرافیائی و تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ہند-بحرالکاہل خطے میں دو اہم کواڈ شراکت داروں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، جو خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

گورنر جنرل کا خصوصی خیرمقدمی اقدام

طے شدہ سفارتی روایت سے ہٹ کر آسٹریلیا کی گورنر جنرل سام موسٹن اے سی وزیراعظم مودی کے استقبال کے لیے ملبورن پہنچیں گی، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی قربت اور اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم مودی بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم سے خطاب کریں گے، جس کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو نئی رفتار دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس فورم کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کو فروغ دینا ہے۔

چالیس برس بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا دورہ

بھارت کی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت آسٹریلیا ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے۔ فلنڈرز یونیورسٹی بھارت میں اپنا کیمپس قائم کرنے کی منظوری حاصل کرنے والی تازہ ترین آسٹریلوی یونیورسٹی ہے، جبکہ اب تک آٹھ آسٹریلوی جامعات کو بھارت میں کیمپس قائم کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ وزیراعظم آسٹریلیا میں ایک بڑے کمیونٹی پروگرام سے بھی خطاب کریں گے۔ آسٹریلیا میں تقریباً دس لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں اور یہ ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بھارتی برادری کو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون تصور کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم مودی گزشتہ چالیس برس کے دوران نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کیے گئے ہیں۔

تجارت اور سرمایہ کاری میں نئی رفتار

نیوزی لینڈ اس وقت اپنی معیشت کو ایک ہی منڈی پر انحصار سے نکال کر مختلف شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط کو وسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس سے بھارت کے ساتھ تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 2.25 ارب امریکی ڈالر ہے۔ دونوں ممالک نے 2030 تک اشیا اور خدمات کی تجارت کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ آئندہ پندرہ برسوں کے دوران بھارت میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔

زرعی تحقیق، کھیل اور اختراع میں تعاون

نیوزی لینڈ اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 1.5 فیصد تحقیق و ترقی پر خرچ کرتا ہے اور ڈیری، زراعت، اعلیٰ کارکردگی والے کھیل اور اختراعات کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بھارت ان شعبوں میں نیوزی لینڈ کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔ نیوزی لینڈ بھارت میں کیوی فروٹ ایکشن پلان، سیب و ناشپاتی ایکشن پلان اور ہنی ایکشن پلان شروع کرنے کے عمل میں ہے، جبکہ ناگالینڈ اور اتراکھنڈ میں کیوی فروٹ کے لیے سنٹر آف ایکسیلنس بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کھیلوں کے شعبے میں مشترکہ ایکشن پلان کے تحت تعاون کو بھی فروغ دینے پر غور کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read