Bharat Express DD Free Dish

diplomatic visit

وزیر اعظم مودی نے اپنے دورے کی جھلکیاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات اور باہمی دوستی کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ وسطی ایشیا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دفاع، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم مودی آکلینڈ میں اپنے ہم منصب کرسٹوفر لکسن کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، عوامی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ آکلینڈ میں وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال کے لیے مشہور اسکائی ٹاور کو خصوصی روشنیوں سے سجایا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور باہمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

جیسنٹا ایلن نے وزیراعظم نریندر مودی کا میلبورن آنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ انتھونی البانیز کی قیادت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے ساتھ آسٹریلیا کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔

سرکاری تقریب سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم میں شرکت کی، جہاں ان کے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البانیز نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تصویر بھی بنوائی۔ وزیراعظم مودی نے فورم میں دونوں ممالک کے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کیا۔

وزیراعظم مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ یہ دورہ بھارت-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، نقل و حرکت، ابھرتی ہوئی اور اہم ٹیکنالوجیز، کھیل اور کھیلوں کی سائنس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

وزیراعظم آسٹریلیا میں ایک بڑے کمیونٹی پروگرام سے بھی خطاب کریں گے۔ آسٹریلیا میں تقریباً دس لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں اور یہ ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بھارتی برادری کو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون تصور کیا جاتا ہے۔

انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2025-26 میں 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ 130 سے زائد بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ برہموس میزائل کی فروخت سمیت اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت میں تعاون نے اس شراکت داری کو نئی سمت دی ہے۔ بحر ہند کے اہم سمندری پڑوسی بھارت اور انڈونیشیا نے 2018 میں ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ سمندری وژن اختیار کیا تھا۔ آئی ایف سی-آئی او آر میں انڈونیشیا کے رابطہ افسر کی تعیناتی سے میری ٹائم ڈومین آگاہی کو مزید تقویت ملے گی۔