Bharat Express DD Free Dish

diplomatic visit

وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو ایک نئی سمت دے رہا ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اعتماد، دوستی اور مشترکہ امنگوں پر مبنی یہ شراکت داری آنے والے وقت میں دونوں ملکوں کے لیے نئی کامیابیوں کے دروازے کھولنے کی امید دلا رہی ہے۔

یہ وزیراعظم مودی کا 2020 میں گلوان وادی میں تصادم کے بعد چین کا پہلا دورہ ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں تجارتی راستوں کی بحالی اور دیگر اہم معاملات شامل ہیں۔

یہ وزیراعظم مودی کا چین کا پہلا دورہ ہے جو 2020 میں گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لپولیکھ پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے ذریعے تجارت کا دوبارہ آغاز شامل ہے۔

اقتصادی سلامتی بھارت اور جاپان کے تعاون کا ایک اہم ستون ہے، جس میں سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور صاف توانائی شامل ہیں۔ بھارت کے لیے اس شراکت داری سے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، سپلائی چین کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔

جاپان کے وزیراعظم کی اہلیہ کو وزیراعظم مودی نے ایک اعلیٰ معیار کی پشمینہ شال تحفے میں دی، جو لداخ کی چانگ تھانگی بکری کے نرم، ہلکے اور گرم اون سے بنی ہے۔ کشمیری کاریگروں کے ہاتھ سے بنائی گئی یہ شال ایک صدیوں پرانی روایت کی نمائندہ ہے، جو کبھی شاہی خاندانوں کی پسندیدہ ہوا کرتی تھی۔

بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت، ایس سی او سربراہی اجلاس میں وزیراعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات بھی متوقع۔

وزیراعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں جاپان اور چین کا دورہ کریں گے۔ جاپان کے دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے، جب کہ پی ایم مودی چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

دو روزہ BRICS سمٹ کے بعد وزیر اعظم مودی برازیلیا کا سرکاری دورہ کریں گے، جو تقریباً 60 برس بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس ملاقات کا مقصد برازیل کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے، خاص طور پر Global South کی مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانا۔ وزیر اعظم مودی اس موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔