Bharat Express DD Free Dish

President Lula to visit India: وزیراعظم مودی کی دعوت پر برازیل کے صدر سرکاری دورے پر آئیں گے بھارت، دہلی میں ہونے والی دوسری اے آئی سمٹ میں ہوں گے شریک

برازیل نے بھارت میں 500 نشستوں پر مشتمل آڈیٹوریم دو دن کے لیے کرایے پر لیا ہے تاکہ صدر لولا اور بھارتی صنعت کاروں کے درمیان براہ راست ملاقاتیں ہو سکیں اور برازیل میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ برازیلی حکام کے مطابق یہ دورہ عالمی سطح پر صدر لولا کی مؤثر قیادت اور برازیل کے عالمی کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں مسابقت بڑھ رہی ہے۔

نئی دہلی: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا 18 سے 22 فروری 2026 تک بھارت کا سرکاری دورہ کریں گے اور اس دوران دہلی میں منعقد ہونے والے دوسرے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سمٹ میں بھی شرکت کریں گے۔ یہ اعلان جمعرات کو وزارت خارجہ (MEA) نے کیا۔  ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ یہ دورہ وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔

19 تا 20 فروری اے آئی سمٹ میں ہوں گے شریک

رندھیر جیسوال کے مطابق: ’’برازیل کے وفاقی جمہوریہ کے صدر 18 سے 22 فروری 2026 تک بھارت کا سرکاری دورہ کریں گے۔ صدر لولا 19 اور 20 فروری کو دہلی میں ہونے والے دوسرے اے آئی سمٹ میں شرکت کریں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ 21 فروری کو اس دورے کا اہم ترین دن ہوگا، جس میں دوطرفہ مذاکرات ہوں گے۔ اس دن صدر لولا کی بھارت کی صدر دروپدی مرمو میزبانی کریں گی، جبکہ وہ نائب صدر اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔

وزرا اور کاروباری وفد بھی ہمراہ

برازیل کے صدر کے ساتھ کئی وزرا اور ایک بڑا کاروباری وفد بھی بھارت آئے گا۔ وزارت خارجہ کے مطابق تجارتی اور سرمایہ کاری مواقع کو فروغ دینے کے لیے کاروباری نمائندوں کے ساتھ متعدد ملاقاتوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ بھارت پہلے ہی فرانس کے صدر ایمینوئل میخوں کی شرکت کا اعلان کر چکا ہے اور اب برازیل کے صدر لولا دوسرے عالمی رہنما ہیں جن کی شرکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ مزید عالمی رہنماؤں کے دورے سے متعلق جلد اعلانات کیے جائیں گے۔

برازیل کی خارجہ پالیسی میں بھارت کو اہم مقام

رپورٹس کے مطابق، یہ دورہ برازیل کی اس نئی خارجہ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ امریکہ اور چین پر انحصار کم کر کے بھارت جیسے ابھرتے ہوئے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ برازیل کے صدارتی محل کے حکام نے اس دورے کو موجودہ حکومت کے سب سے بڑے غیر ملکی مشنز میں سے ایک قرار دیا ہے۔ برازیل کی ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ پروموشن ایجنسی ApexBrasil نے تقریباً 200 کاروباری رہنماؤں کو دورے میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، جن میں سے تقریباً 150 نمائندوں نے شرکت کی تصدیق کی، جو بھارتی مارکیٹ میں مضبوط دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت-برازیل تجارت میں نمایاں اضافہ

تجارتی اعداد و شمار کے مطابق:

2025 میں بھارت، برازیل کی دسویں بڑی برآمدی منڈی رہا

برازیل کی بھارت کو برآمدات: 6.9 ارب ڈالر

بھارت سے درآمدات: 8.4 ارب ڈالر

دوطرفہ تجارت میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا

زراعت اور خاندانی فارمنگ میں تعاون

دورے کے دوران زرعی شعبے میں تعاون بھی اہم ایجنڈے میں شامل ہے۔ برازیل، بھارت کو خاندانی فارمنگ میں تکنیکی تعاون کی پیشکش کرے گا، جس کے لیے زرعی تحقیقاتی ادارے Embrapa کا نمائندہ بھی وفد میں شامل ہوگا۔

سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے خصوصی اجلاس

برازیل نے بھارت میں 500 نشستوں پر مشتمل آڈیٹوریم دو دن کے لیے کرایے پر لیا ہے تاکہ صدر لولا اور بھارتی صنعت کاروں کے درمیان براہ راست ملاقاتیں ہو سکیں اور برازیل میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ برازیلی حکام کے مطابق یہ دورہ عالمی سطح پر صدر لولا کی مؤثر قیادت اور برازیل کے عالمی کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں مسابقت بڑھ رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read