Bharat Express DD Free Dish

political dispute

22 جولائی کو سپریم کورٹ نے چھ باغی ارکان کے انضمام پر فوری طور پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے لوک سبھا اسپیکر، لوک سبھا کے سکریٹری اور ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے جواب دہندگان سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی تھی۔

یہ سیاسی تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب راہل گاندھی حالیہ دنوں میں وزیر اعظم مودی کی اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں پر مسلسل حملہ آور ہیں۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے پانچ ملکی دورے، معاشی صورتحال اور اٹلی میں وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ’’میلوڈی‘‘ ٹافیاں تحفے میں دینے کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بحث کے آغاز پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مستقبل میں پارلیمانی ریکارڈ دیکھے جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ کرن ریجیجو وہ وزیر تھے جنہوں نے اپوزیشن کو سب سے زیادہ روکا۔ 

بنگلہ دیشی صدر شہاب الدین نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران انہیں کسی مشاورتی عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ عبوری حکومت نے آئینی منصب کو نظر انداز کیا اور غیر آئینی طریقے سے عہدے سے ہٹانے کی سازش بھی کی گئی۔

راہل گاندھی نے چند روز قبل پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کے الزامات لگائے تھے اور اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہی ووٹر کا نام کئی جگہ درج ہے اور متعدد افراد نے ڈبل ووٹنگ کی ہے۔