نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے منگل کے روز لوک سبھا میں نکتۂ اعتراض اٹھاتے ہوئے بی جے پی کے رکن جگدمبیکا پال کی جانب سے ایوان کی کارروائی چلانے کی آئینی حیثیت پر سوال کھڑا کر دیا۔ لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ چونکہ جگدمبیکا پال کو اسپیکر نے نامزد کیا ہے، اس لیے وہ اسپیکر کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کی صدارت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعات 95 اور 96 کے مطابق ایسی صورتحال میں مخصوص طریقۂ کار اپنانا ضروری ہے اور محض قواعد کے ذریعے آئینی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اویسی نے کہا ’’آپ کو اسپیکر نے چیئر پر بٹھایا ہے، لیکن میری رائے میں آپ اس کارروائی کی صدارت نہیں کر سکتے۔ ایوان کو اس پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ رول 10 آئین کی دفعات 95 اور 96 پر غالب نہیں آ سکتا۔ حکومت نے ایک آئینی الجھن پیدا کر دی ہے۔‘‘
رول 10 اور آئینی دفعات کا معاملہ
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پارلیمانی قواعد کا استعمال کرتے ہوئے آئین کی لازمی شقوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ آئین کی دفعات 95 اور 96 اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے فرائض اور ان کی عدم موجودگی میں ایوان کی صدارت کے طریقہ کار سے متعلق ہیں۔ جبکہ لوک سبھا کا رول 10 اسپیکر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ’’پینل آف چیئرپرسنز‘‘ نامزد کریں جو اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی عدم موجودگی میں کارروائی چلا سکیں۔
کرن ریجیجو کا اپوزیشن پر حملہ
اس معاملے پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن ریجیجو نے لوک سبھا میں اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے اپوزیشن پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بے چین ہے اور عوام کے مینڈیٹ کے خلاف جا کر اسپیکر کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریجیجو نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم، وزراء اور قائد حزب اختلاف سب موجود ہو سکتے ہیں، لیکن کسی کو بھی بولنے کے لیے اسپیکر کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔
گورو گوگوئی کا طنز اور امت شاہ کا دفاع
اس سے قبل بحث کے آغاز پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مستقبل میں پارلیمانی ریکارڈ دیکھے جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ کرن ریجیجو وہ وزیر تھے جنہوں نے اپوزیشن کو سب سے زیادہ روکا۔ دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ریجیجو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب ارکان پارلیمانی قواعد کی پابندی نہیں کرتے تو ایسی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز امت شاہ لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کو ہٹانے کی تحریک پر جاری بحث میں حصہ لیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

