Bharat Express DD Free Dish

Meta Clarifies: بھارت کے دباؤ کے بعد میٹا کی کارروائی، فیس بک اور انسٹاگرام سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق 53 لاکھ مواد ہٹایا

میٹا نے دعویٰ کیا کہ جنوری سے جون 2026 کے درمیان بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تقریباً 53 لاکھ پوسٹس، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد کے خلاف کارروائی کی گئی، 98 فیصد سے زائد مواد کی شناخت کمپنی کے سسٹم نے خود کی۔

فیس بک اور انسٹاگرام کی ملکیت رکھنے والی کمپنی میٹا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوری سے جون 2026 کے دوران بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تقریباً 53 لاکھ مواد کے خلاف کارروائی کی۔ کمپنی کے مطابق، اس میں 98 فیصد سے زائد مواد کی شناخت اس کے اپنے تکنیکی سسٹم نے کی، یعنی ہر معاملے میں صارف کی شکایت کا انتظار نہیں کیا گیا۔ میٹا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ اور ان سے متعلق قابل اعتراض مواد کی روک تھام کو لے کر حکومتی دباؤ بڑھا ہے۔ حکومت نے میٹا کے حکام کو طلب کرکے ایسی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کی تھی۔

53 لاکھ کا مطلب 53 لاکھ افراد نہیں

میٹا کے مطابق، فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی مسلسل نگرانی کے لیے تکنیکی سسٹم استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے مواد میں سے 98 فیصد سے زیادہ کی شناخت اس نے خود کی، جس کے بعد اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا اور ضوابط کے مطابق کارروائی کی گئی۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ 53 لاکھ کا اعداد و شمار مختلف پوسٹس، تصاویر، ویڈیوز یا دیگر مواد کے خلاف کی گئی کارروائیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے 53 لاکھ الگ الگ افراد یا صارفین کی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔

حکومت نے میٹا کے حکام کو کیا تھا طلب

بھارت میں بچوں سے متعلق جنسی استحصال پر مبنی مواد کو انٹرنیٹ پر پھیلانا سنگین جرم ہے۔ حکومت نے میٹا کے حکام کو طلب کرکے واضح کیا تھا کہ ایسے مواد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فیس بک اور انسٹاگرام جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر کروڑوں صارفین موجود ہیں، جس کی وجہ سے قابل اعتراض مواد کی روک تھام ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک پوسٹ حذف کیے جانے کے بعد وہی یا اس سے ملتا جلتا مواد کسی دوسرے اکاؤنٹ کے ذریعے دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کی جانب سے پلیٹ فارمز پر صرف مواد حذف کرنے کے بجائے اس کی دوبارہ اشاعت اور پھیلاؤ روکنے کے لیے بھی مؤثر نظام تیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

’نظام مزید مضبوط کیا جا رہا ہے‘

میٹا نے بتایا کہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف اپنی کارروائی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اس نے اضافی اقدامات کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق، مقصد صرف قابل اعتراض مواد کو حذف کرنا نہیں بلکہ اسے دوبارہ پلیٹ فارم پر ظاہر ہونے سے روکنا بھی ہے۔ کمپنی کے تکنیکی سسٹم مشتبہ مواد کی شناخت، اسے ہٹانے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ کارروائی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو نشانہ بنانے والے ایسے مواد کے خلاف اپنی پالیسیوں اور تکنیکی سسٹم کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read