Bharat Express DD Free Dish

Child safety

دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کا طبی معائنہ کرایا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ڈرائیور اور کنڈکٹر نے طالبہ کو نوئیڈا سیکٹر-63 جانے کی بات کہہ کر بس میں بٹھا لیا۔ الزام ہے کہ بس چلنے کے کچھ دیر بعد کنڈکٹر نے طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا حرکت شروع کردی۔ طالبہ کے مطابق اس کے بعد ڈرائیور اور کنڈکٹر نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور مخالفت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

ماں سے شکایت کے بعد معاملہ سامنے آیا، پولیس نے نابالغ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی، والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بچی کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کی امید میں اسکول میں داخل کرایا تھا، لیکن اس واقعے نے انہیں شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔

برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسپین اور ڈنمارک بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 282 ملین کیسز اور 6 لاکھ 10 ہزار اموات رپورٹ ہوئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے،

ڈاکٹروں کے مطابق بچہ اس وقت شدید چوٹوں کے باعث زیر نگرانی ہے۔ آنکھ اور چہرے کی سوجن خطرناک نوعیت کی ہے اور مکمل صحت یابی میں وقت لگ سکتا ہے۔ پولیس نے ٹیچر کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں بہار کے کئی اضلاع میں دودھ پلانے والی ماؤں کے دودھ میں یورینیم (U238) کی خطرناک سطح سامنے آئی ہے، جس سے ان کے بچوں کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

ایس ڈی ایم دنیش نکنج کے مطابق ’’فی الحال بچوں، اساتذہ اور اہل خانہ کے بیانات درج کیے جا چکے ہیں۔ اپنی مدد آپ گروپ (سیلف ہیلپ گروپ) کی خواتین سے بھی جلد پوچھ تاچھ ہوگی۔ جانچ کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘